ماحول دوست پنجاب: ورلڈ انوائرمنٹ ڈے، صوبائی حکومت کے کلیدی اقدامات

05:05 PM, 4 Jun, 2025

لاہور:ورلڈ انوائرمنٹ ڈے ہر سال 5 جون کو منایا جاتا ہے۔ یہ دن اقوام متحدہ (UN) کی طرف سے ماحولیات کے تحفظ اور شعور بیدار کرنے کے لیے منایا جاتا ہے۔ورلڈ انوائرمنٹ ڈے  پر  گذشتہ برس سے پنجاب کو ماحول دوست بنانے کے لیے   اہم اقدامات کئے گئےہیں تاکہ صوبہ پنجاب کوماحول دوست بنایاجائے ۔ اس کے لیے وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کی قیادت میں ماحول دوست پنجاب کا نعرہ بھی لگایاگیا اور مختلف اقدامات کیے گئے ۔ یہ اقدامات نہ صرف صوبے کے قدرتی وسائل کے تحفظ کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھتے ہوئے پائیدار ترقی کی جانب بھی ایک مضبوط قدم ہیں۔
 شجرکاری مہمات، پلاسٹک کے استعمال پر مکمل پابندی، برقی بسوں کا تعارف اور عالمی شراکت داری جیسے اقدامات پنجاب کو ایک ماحول دوست صوبہ بنانے کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔ یہ رپورٹ ان تمام کوششوں کا جائزہ پیش کرتی ہے جو پنجاب حکومت نے ماحول کی حفاظت اور صاف ستھرا مستقبل یقینی بنانے کے لیے اٹھائی ہیں۔ اس دن کا مقصد دنیا بھر میں لوگوں کو ماحولیاتی مسائل، جیسے فضائی آلودگی، جنگلات کی کٹائی، پانی کی آلودگی، موسمیاتی تبدیلی، اور پلاسٹک کے استعمال جیسے موضوعات پر آگاہی دینا اور انہیں ماحول کی حفاظت کے لیے عملی اقدامات کرنے کی ترغیب دینا ہوتا ہے۔
ورلڈ انوائرمنٹ ڈے کا اہم مقصد یہ ہے کہ    ماحولیات کی حفاظت پر توجہ دی جائے،    پائیدار ترقی کو فروغ دیاجائے،    عالمی سطح پر ماحولیاتی مسائل کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ اہم اقدامات کئے جائیں اور     عوام میں ماحولیاتی شعور بڑھایاجائے۔     حکومتوں اور اداروں کو ماحول دوست پالیسیاں اپنانے کی ترغیب دینابھی اہم قدم ہے۔
یہ دن پہلی بار 1974 میں منایا گیا تھا، اور تب سے ہر سال دنیا کے مختلف ممالک میں اس موضوع پر تقریبات، سیمینارز، صفائی مہمات، شجرکاری، اور دیگر ماحول دوست سرگرمیاں منعقد کی جاتی ہیں۔
پنجاب حکومت نے ماحولیاتی بہتری کے لیے شجرکاری کو اپنی اولین ترجیح بنایا ہے۔ اس کے تحت     سی بی ڈی پنجاب (Central Business District) میں لاہور کے مختلف علاقوں میں لگ بھگ 20,000 سے زائد درخت لگائے گئے ہیں، تاکہ شہری ماحول کو صاف ستھرا اور خوشگوار بنایا جا سکے۔    لاہور میں تقریباً 70 فیصد رقبہ سبز علاقوں کے لیے مختص کیا گیا ہے، جو شہریوں کو قدرتی ماحول سے جڑنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
پنجاب کو ماحول دوست بنانے کے لیےایسے جنگلات بنائے جا رہے ہیں جو مقامی نباتات اور حیوانات کے لیے محفوظ پناہ گاہ فراہم کریں گے۔    نئے منصوبوں کے تحت بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے لیے خصوصی ٹینک بنائے گئے ہیں تاکہ پانی کی کمی کا سامنا کم ہو اور زمین کی نمی برقرار رہے۔    یہ تمام اقدامات ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنے اور ہوا کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے ہیں۔

 پلاسٹک کے استعمال پر مکمل پابندی :

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پلاسٹک کے تمام استعمال، پیداوار، فروخت اور تجارت پر مکمل پابندی عائد کی ہے۔    اس کا مقصد پلاسٹک کے ماحولیاتی نقصان کو کم کرنا ہے کیونکہ پلاسٹک قدرتی طور پر نہیں گلتا اور زمین و پانی کو آلودہ کرتا ہے۔    "نو ٹو پلاسٹک" مہم کا آغاز کیا گیا ہے، جس کے تحت ہوٹل، ریسٹورنٹ، مارکیٹیں، اور دیگر عوامی مقامات پر پلاسٹک بیگ کے استعمال پر سختی سے پابندی عائد کی گئی ہے۔
    عوامی آگاہی کے لیے ریلیاں اور ورکشاپس بھی منعقد کی گئی ہیں تاکہ لوگ ماحول دوست متبادل استعمال کریں، جیسے کپڑے کے بیگز، کاغذی تھیلے وغیرہ۔
3. الیکٹرک  بسوں کا تعارف:
    فضائی آلودگی کو کم کرنے کے لیے پنجاب حکومت نے 1,500 برقی بسیں متعارف کرانے کا بڑا منصوبہ بنایا  اورزیادہ تعداد میں الیکٹرک بسیں لاہور سمیت دیگر بڑے شہروں میں شاہراہوں پر چلتی نظر آرہی ہیں،یہ بسیں روایتی ڈیزل یا پیٹرول بسوں کے مقابلے میں بہت کم آلودگی پیدا کرتی ہیں۔    برقی بسوں کا استعمال پبلک ٹرانسپورٹ کو زیادہ ماحول دوست اور موثر بنانے کے لیے ہے۔
    اس اقدام سے نہ صرف فضائی آلودگی کم ہوگی بلکہ شہر میں شور کی آلودگی بھی کم ہوگی، اور شہریوں کو بہتر سفری سہولیات میسر آئیں گی۔    منصوبے کی تکمیل کے لیے چارجنگ سٹیشنز اور دیگر انفراسٹرکچر بھی بنایا جا رہا ہے۔
4. عالمی تعاون اور ٹیکنالوجی کا تبادلہ :
    پنجاب حکومت نے چین کے ساتھ مل کر "بیجنگ۔پنجاب کلین ایئر" ورکنگ گروپ قائم کیا ہے۔    اس ورکنگ گروپ کا مقصد ہوا کے معیار کی نگرانی اور بہتری کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا تبادلہ اور تعاون ہے۔    اس کے تحت ہوا کی آلودگی کی پیمائش، فضائی معیارات کی بہتری، اور سبز توانائی کے منصوبوں کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
    پنجاب میں قابل تجدید توانائی کے منصوبے، جیسے شمسی توانائی (Solar Energy) اور ہوا سے توانائی (Wind Energy)، کو فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ فوسل ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے۔    ماحولیاتی تعلیم اور عوامی آگاہی کے پروگرام بھی اس تعاون کا حصہ ہیں، جس سے عوام میں ماحول کی حفاظت کا شعور بیدار ہوگا۔
5. ماحولیاتی قانون سازی اور پالیسی سازی :
    ورلڈ انوائرمنٹ ڈے  کے لیے پنجاب حکومت نے پنجاب سٹیٹ ایکشن پلان برائے کلائمیٹ چینج (SAPCC 2.0) کو اپ ڈیٹ  کیا ہے۔    اس پلان میں ماحولیاتی تحفظ، فضائی آلودگی کی کمی، پانی کے وسائل کا تحفظ، اور جنگلات کی افزائش کے لیے واضح حکمت عملی وضع کی گئی ہے۔
    پالیسی کے تحت سخت قانونی اقدامات کیے جائیں گے تاکہ ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا دی جا سکے۔    صوبائی ادارے، ماحولیاتی تنظیمیں، اور عوامی نمائندے اس پلان پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔
6. عوامی آگاہی اور تعلیم :
    ماحولیاتی تعلیم کو فروغ دینے کے لیے سکولوں، کالجوں، اور یونیورسٹیوں میں خصوصی پروگرامز منعقد کیے گئے ہیں۔    ریلیاں، سیمینارز، اور ورکشاپس کے ذریعے نوجوانوں میں ماحول کی حفاظت کی اہمیت اجاگر کی جا رہی ہے۔    سوشل میڈیا اور دیگر میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی ماحولیاتی مسائل اور ان کے حل کے بارے میں آگاہی مہم چلائی جا رہی ہے۔    اس سے نہ صرف موجودہ بلکہ آنے والی نسلوں میں بھی ماحولیاتی ذمہ داری کا جذبہ پیدا ہو رہا ہے۔

مزیدخبریں