افغانستان میں پرندہ بھی عورت سے زیادہ محفوظ؛ طالبان رجیم کے نئے قوانین پر عالمی جریدے کا شدید ردعمل

12:55 PM, 4 Jun, 2026

کابل/لندن: افغانستان میں طالبان رجیم کے تحت انسانی حقوق اور بالخصوص خواتین کے حقوق کی پامالیوں پر عالمی برادری کی تشویش مخدوش ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، جس پر اب دنیا کے فوری ردعمل کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ عالمی شہرت یافتہ برطانوی جریدے "دی گارڈین" نے اپنی رپورٹ میں افغان خواتین کی حالتِ زار پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ موجودہ دورِ حکومت میں افغانستان کے اندر ایک پرندہ بھی عورت سے زیادہ محفوظ اور آزاد ہے۔
"گارڈین" کی رپورٹ کے مطابق، طالبان رجیم کے پچھلے پانچ سالوں کے دوران افغانستان میں ساتویں جماعت اور اس سے اوپر کی لڑکیوں کے لیے اسکولوں کے دروازے مستقل بند ہیں اور ان کے لیے سرے سے کوئی اسکول ہی نہیں بنائے گئے، جس کے باعث لاکھوں لڑکیاں تعلیم کے بنیادی حق سے محروم ہو چکی ہیں۔
رپورٹ میں ایک اور لرزہ خیز انکشاف کیا گیا ہے کہ افغانستان میں نکاح سے متعلق نافذ کیے گئے نئے قانون میں کم عمر لڑکیوں کی شادیوں کو باقاعدہ قانونی حیثیت دے دی گئی ہے، جس نے انسانی حقوق کی تنظیموں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔

مزیدخبریں