اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے نور مقدم قتل کیس کے مرکزی مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت کے خلاف دائر نظرثانی کی اپیل مسترد کر دی ہے۔ عدالتِ عظمیٰ کے بینچ کی قیادت کرنے والے جسٹس اشتیاق ابراہیم نے مجرم کی درخواست کو خارج کرتے ہوئے اس کی سزائے موت کو برقرار رکھنے کا حکم جاری کیا۔
سماعت کے دوران مجرم کے وکیل خواجہ حارث نے اپنے دلائل میں تسلیم کیا کہ "میں مانتا ہوں کہ نور مقدم کے ساتھ بہت بڑا ظلم ہوا اور میں مقتولہ کے خاندان سے اس پر معذرت خواہ ہوں"۔ تاہم، انہوں نے اپنے مؤکل کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ وقوعے کے وقت ظاہر جعفر کی دماغی حالت ٹھیک نہیں تھی اور وہ 'بائی پولر ڈس آرڈر' اور شدید ڈپریشن کا شکار تھا، جس کے لیے وہ باقاعدہ ادویات بھی لے رہا تھا۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے دفاعی وکیل کے دماغی حالت کے دلائل کو ناکافی قرار دیتے ہوئے نظرثانی کی درخواست کو یکسر مسترد کر دیا، جس کے بعد مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت کا فیصلہ حتمی طور پر برقرار رہے گا۔
نور مقدم قتل کیس: سپریم کورٹ نے مرکزی مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت برقرار رکھی، نظرثانی کی اپیل خارج
02:45 PM, 4 Jun, 2026