مصنوعی ذہانت کے پھیلاؤ پر ماحولیاتی خدشات میں اضافہ

08:52 PM, 4 Jun, 2026

کیلیفورنیا:  اقوامِ متحدہ نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے تیزی سے بڑھتے استعمال کے ماحول پر پڑنے والے ممکنہ خطرناک اثرات کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دنیا کے تمام ممالک کو اس مسئلے کو فوری طور پر سنجیدگی سے لینے کی ہدایت کی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق اے آئی ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کے ساتھ ساتھ توانائی کی طلب، پانی کے استعمال اور کاربن اخراج میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جو ماحولیات کے لیے ایک بڑے چیلنج کی شکل اختیار کر رہا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اے آئی ڈیٹا سینٹرز انتہائی زیادہ وسائل استعمال کرتے ہیں، جنہیں فعال رکھنے کے لیے بھاری مقدار میں بجلی درکار ہوتی ہے جبکہ انہیں ٹھنڈا رکھنے کے لیے پانی کی خطیر مقدار خرچ کی جاتی ہے۔ اسی طرح ان مراکز کے لیے وسیع رقبے کی بھی ضرورت پیش آتی ہے۔

کینیڈا میں قائم یو این انسٹیٹیوٹ فار واٹر، انوائرنمنٹ اینڈ ہیلتھ کی تحقیق میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اے آئی کا ماحولیاتی اثر صرف ڈیٹا سینٹرز تک محدود نہیں بلکہ کمپیوٹر چپس کی تیاری، نایاب معدنیات کے استعمال اور الیکٹرانک فضلے میں اضافے کے باعث بھی ماحول پر نمایاں دباؤ پڑ رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق نہ صرف بنیادی انفراسٹرکچر بلکہ عام صارفین کی روزمرہ سرگرمیاں بھی اس بوجھ میں اضافہ کرتی ہیں، جہاں ہر سوال، ہر ہدایت، ہر تصویر اور ہر آن لائن سرچ کے لیے درکار کمپیوٹنگ طاقت توانائی کے استعمال کو بڑھا رہی ہے۔

اقوامِ متحدہ نے حکومتوں، ٹیکنالوجی کمپنیوں اور سرمایہ کاروں پر زور دیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت سے متعلق فیصلوں میں ماحولیاتی اثرات کو بنیادی اہمیت دیں تاکہ اس ٹیکنالوجی کی ترقی ایک پائیدار اور ماحول دوست سمت میں جاری رہ سکے۔

مزیدخبریں