واشنگٹن : امریکی سینٹرل کمانڈ کے ایمل بیرڈ کوپر نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ نے ایران میں تقریباً 2,000 اہداف پر بمباری کی ہے اور ایران کی بحریہ کے 17 جہازوں سمیت ایک آبدوز کو تباہ کردیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خلیج عرب، ہرمز، اور خلیج عمان میں اب کوئی ایرانی بحری جہاز موجود نہیں ہے۔
امریکی آپریشن میں 50,000 اہلکار اور 200 فائٹر جیٹ شامل ہیں، اور ایران کے بیلسٹک میزائل اور ڈرونز کو بھی تباہ کردیا گیا ہے۔ امریکی حکام نے اس کارروائی کو ایران کے جوہری اور فوجی پروگرام کو روکنے کی ایک کوشش قرار دیا ہے۔
اس دوران، اسرائیلی فوج نے ایران کی زیرِ زمین جوہری تنصیب پر حملے کا دعویٰ کیا ہے، جس میں ایٹمی ہتھیاروں کے اہم اجزاء پر کام جاری تھا۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس کی بنیاد پر درست نشانہ لگایا گیا۔ ایران کی جانب سے اس حملے پر ابھی تک کوئی ردعمل نہیں آیا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اور امریکی سفارتخانوں اور فوجیوں کی سکیورٹی اولین ترجیح ہے۔ امریکہ نے ایران کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے اور اب تک 9,000 امریکی شہری خطے سے انخلا کر چکے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے بھی اپنی ایک حالیہ بیان میں کہا تھا کہ ایران کی فضائیہ، بحریہ اور قیادت مکمل طور پر تباہ کردی گئی ہے اور اب ایران سے جنگ جاری رہے گی تاکہ اہداف حاصل کیے جا سکیں۔