نئی دہلی / تل ابیب: بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کا حالیہ دورہ اسرائیل عالمی سفارتی حلقوں میں بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ ایران پر ممکنہ اسرائیلی حملے سے عین قبل اس دورے کی "ٹائمنگ" نے نہ صرف بھارتی اپوزیشن بلکہ عالمی میڈیا کو بھی حیران کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے بھارت کو عالمی سطح پر شدید سبکی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور اس کی غیر جانبدارانہ حیثیت پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، مودی نے تل ابیب میں نیتن یاہو سے ملاقات کے دوران ایران کے خلاف ممکنہ فوجی یا لاجسٹک امداد کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اس حوالے سے سابق امریکی وزیر دفاع کے مشیر ڈگلس میکگریگر کا انکشاف انتہائی چشم کشا ہے، جن کا دعویٰ ہے کہ امریکی بحریہ ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں بھارتی بندرگاہوں کو استعمال کر رہی ہے۔ یہ صورتحال تہران اور نئی دہلی کے درمیان دہائیوں پرانے تعلقات میں دراڑ پیدا کر سکتی ہے۔
بھارتی تحقیقاتی نیوز ویب سائٹ "دی وائر" نے انکشاف کیا ہے کہ اس دورے کا ایک بڑا اور خفیہ ہدف امریکی سیاست ہے۔ رپورٹ کے مطابق مودی، نیتن یاہو کے ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ گہرے تعلقات کو استعمال کر کے مستقبل کی امریکی انتظامیہ میں اپنی جگہ بنانا چاہتے ہیں۔ مودی کا یہ "سیاسی جوا" بھارت کی خارجہ پالیسی کو واشنگٹن اور تل ابیب کے محور کے گرد گھمانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
بھارت کے اندر اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ مودی نے ملک کے مفادات کو ذاتی تشہیر اور سیاسی مقاصد کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔ سفارتی تنہائی کا خدشہ: ناقدین کے مطابق، اسرائیل کی طرف جھکاؤ سے بھارت کے عرب دنیا اور ایران کے ساتھ اقتصادی منصوبے (جیسے چاہ بہار بندرگاہ) خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔عالمی میڈیا میں یہ بحث چھڑی ہوئی ہے کہ کیا بھارت اب مشرقِ وسطیٰ میں امن کے بجائے جنگی جنون کا حصہ بن رہا ہے؟۔
مودی کا دورۂ اسرائیل: کیا بھارت نے دہائیوں پرانی سفارتی ساکھ داؤ پر لگا دی؟
02:48 PM, 4 Mar, 2026