واشنگٹن / میڈرڈ : ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے معاملے پر امریکہ اور اس کے اہم یورپی اتحادی سپین کے درمیان شدید کشیدگی پیدا ہو گئی ہے، جس نے واشنگٹن اور یورپی یونین کے درمیان بڑھتی ہوئی سفارتی خلیج کو سب کے سامنے نمایاں کر دیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق، اسپین نے ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت کے لیے اپنی سرزمین اور مشترکہ فوجی اڈوں کے استعمال کی اجازت دینے سے صاف انکار کر دیا ہے۔
سپین کی حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے فوجی اڈوں کو ایران کے خلاف کارروائی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے سکتی، کیونکہ ایسی کوئی بھی مہم جوئی بین الاقوامی قوانین کے منافی ہے۔ میڈرڈ کے اس جرات مندانہ فیصلے نے پینٹاگون کے جنگی منصوبوں کو بڑا دھچکا پہنچایا ہے، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان دہائیوں پر محیط تزویراتی تعلقات خطرے میں پڑ گئے ہیں۔
سپین کے اس انکار پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے میڈرڈ پر کڑی تنقید کی ہے۔ صدر ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر اسپین نے تعاون نہ کیا تو امریکہ اس کے ساتھ تمام تجارتی تعلقات ختم کر سکتا ہے۔ ٹرمپ کے اس جارحانہ بیان کو یورپی حلقوں میں "سفارتی غنڈہ گردی" سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔
امریکی دھمکیوں کے جواب میں سپین نے غیر متوقع طور پر سخت موقف اختیار کیا ہے۔ ہسپانوی حکام کا کہنا ہے کہ وہ امریکہ کی جانب سے کسی بھی ممکنہ معاشی پابندی سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ امریکہ کو بین الاقوامی قوانین اور دوطرفہ معاہدوں کی پاسداری کرنی چاہیے۔ قومی خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
ایران پر حملے کا معاملہ: امریکہ اور سپین میں سفارتی جنگ چھڑ گئی، ٹرمپ کی تجارتی بائیکاٹ کی دھمکی، میڈرڈ کا ڈٹ جانے کا اعلان
03:27 PM, 4 Mar, 2026