مشرقِ وسطیٰ کشیدگی: پاکستان کی تنازع میں کمی کیلئے سفارتی کوششیں، پارلیمانی رہنماؤں کو ان کیمرہ بریفنگ

04:31 PM, 4 Mar, 2026

اسلام آباد : وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں کا ایک اہم اور اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال اور پاکستان کی سفارتی حکمتِ عملی پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔ اجلاس میں ملک کی سیاسی قیادت کو خطے میں جاری کشیدگی اور پاکستان کے کردار پر اعتماد میں لیا گیا۔
اجلاس کے دوران دفترِ خارجہ کے حکام نے شرکاء کو ان کیمرہ بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں تنازع کی شدت کو کم کرنے کے لیے ہر ممکن سطح پر فعال کردار ادا کیا ہے۔ بریفنگ میں واضح کیا گیا کہ پاکستان نے آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت اور ایران پر ہونے والے حالیہ حملوں کی فوری اور سخت الفاظ میں مذمت کی تھی۔شرکاء کو پاکستان ،افغانستان تعلقات، ایران اور خلیجی ممالک میں جاری تناؤ کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے مشرقِ وسطیٰ کی قیادت کے ساتھ اپنے حالیہ رابطوں کی تفصیلات بتائیں، جس پر سیاسی رہنماؤں نے اطمینان کا اظہار کیا۔شرکاء نے حکومت کی سفارتی پالیسی کو سراہتے ہوئے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مضبوط قومی عزم کا اعادہ کیا اور آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اپنی تجاویز بھی پیش کیں۔
اجلاس میں سیاسی میدان کے بڑے ناموں نے شرکت کی، جن میں     چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی اور سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق،   چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور سربراہ جے یو آئی (ف) مولانا فضل الرحمان،    نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، احسن اقبال، اعظم نذیر تارڑ اور دیگر وفاقی وزراء ۔
جہاں ایک طرف بڑی سیاسی قیادت موجود تھی، وہیں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی، سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس اور پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے کسی بھی رکن نے اس اہم بریفنگ میں شرکت نہیں کی، جو سیاسی حلقوں میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔

مزیدخبریں