آبنائے ہرمز میں مداخلت 'اعلانِ جنگ' ہوگی: ایران نے صدر ٹرمپ کے دعوے مسترد کر دیے

10:10 AM, 4 May, 2026

تہران:ایران نے امریکی صدر کے حالیہ بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اور خلیج فارس میں کسی بھی قسم کی امریکی مداخلت کو جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔
ایرانی نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے صدر ٹرمپ کی جانب سے بحری نقل و حمل کی بحالی کے حکم کو "فریب" قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ   آبنائے ہرمز اور خلیج فارس کا انتظام ٹرمپ کے دھوکہ دہی پر مبنی بیانات سے نہیں چل سکتا۔ ان اسٹریٹجک علاقوں کے معاملات میں محض بیان بازی کی کوئی گنجائش نہیں۔ ایران نے باور کرایا ہے کہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کی سکیورٹی اور انتظام صرف ایران اور خطے کے ممالک کے پاس ہے۔
تہران نے تنبیہ کی ہے کہ امریکہ کی جانب سے کسی بھی قسم کی عملی مداخلت یا بحری راستوں کے کنٹرول کی کوشش کو جنگی اقدام مانا جائے گا۔ ایرانی حکام نے ٹرمپ کے "مثبت مذاکرات" کے دعووں کو حقیقت سے دور قرار دیتے ہوئے امریکہ کو غیر ذمہ دارانہ بیانات سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
ایران کے اس تندوتیز جواب نے عالمی منڈیوں میں پیدا ہونے والی عارضی امید کو ایک بار پھر تشویش میں بدل دیا ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کا یہ پیغام ظاہر کرتا ہے کہ وہ خطے میں کسی بھی غیر ملکی قوت کا حکم تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے، جس سے مستقبل قریب میں سفارتی تناؤ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

مزیدخبریں