نئی دہلی: بھارتی وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے 18 اگست کو چینی ہم منصب وانگ یی کے دورۂ بھارت کے دوران دو ٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ بھارت خطے میں کسی ایک ملک کی اجارہ داری برداشت نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایشیا کی ترقی اور استحکام سب ممالک کے مساوی کردار سے ہی ممکن ہے، اس لیے بھارت چین کی علاقائی بالادستی قبول نہیں کرتا۔ جے شنکر اس سے قبل بھی چین کو "سب کے لیے مسئلہ" قرار دے چکے ہیں اور ان کے مطابق امریکہ اور یورپ بھی اسی پس منظر میں چین کے اقدامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔
چین کی جانب سے اس مؤقف پر ردعمل بھی سامنے آ چکا ہے۔ گزشتہ سال 9 ستمبر کو شائع ہونے والے مضمون میں چینی سرکاری جریدے گلوبل ٹائمز نے الزام عائد کیا تھا کہ جے شنکر چین کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے سے ہچکچاتے ہیں تاکہ اپنی ناکام سفارتکاری کو چھپایا جا سکے۔ مضمون میں یہ بھی کہا گیا کہ بھارتی وزیرِ خارجہ کی پالیسی دراصل امریکہ کو خوش رکھنے کے لیے ترتیب دی گئی ہے۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب دونوں ممالک کے درمیان سرحدی کشیدگی، تجارتی تعلقات اور علاقائی سیاست کے معاملات پر تناؤ بدستور موجود ہے۔