تل ابیب/بیروت : مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران اسرائیلی فوجی قیادت نے پہلی بار حزب اللہ کی جنگی صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے اسے اپنی توقعات سے کہیں زیادہ طاقتور قرار دیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل نے ایران کی معیشت کی شہ رگ "توانائی تنصیبات" کو نشانہ بنانے کا حتمی منصوبہ تیار کر لیا ہے۔
اسرائیلی فوج کے ہوم فرنٹ کمانڈر رفی میلیو نے حزب اللہ کی دفاعی اور جارحانہ طاقت کے بارے میں حیران کن انکشافات کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے ہم نے حزب اللہ کے بارے میں جو سوچا تھا، حقیقت اس سے بالکل مختلف اور کہیں زیادہ خطرناک نکلی۔ حزب اللہ اس وقت مکمل فعال ہے اور اس کے پاس 10 ہزار سے زائد راکٹ اور بڑی تعداد میں جدید لانچرز موجود ہیں۔رفی میلیو کے مطابق حزب اللہ کے پاس اتنی صلاحیت ہے کہ وہ مسلسل 6 ماہ تک روزانہ 500 راکٹ اسرائیل پر داغ سکتی ہے۔
اسرائیلی وزارتِ دفاع کے ذرائع کے مطابق، تل ابیب نے ایران کو معاشی طور پر مفلوج کرنے کے لیے اس کی توانائی اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق حملے کا تمام تر پلان تیار ہے، تاہم اسرائیل اس وقت امریکہ کی جانب سے حتمی "گرین سگنل" اور عسکری تعاون کا منتظر ہے تاکہ اس بڑی کارروائی کے بعد پیدا ہونے والے نتائج سے نمٹا جا سکے۔حزب اللہ کے پاس موجود راکٹوں کی تعداد اور لانچنگ کی رفتار نے اسرائیلی دفاعی نظام (آئرن ڈوم) پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے۔
ایران کی وارننگ: تہران پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ اس کی معیشت پر کسی بھی حملے کا جواب اسرائیل کی تمام ریفائنریوں کی تباہی سے دیا جائے گا۔
حزب اللہ کی عسکری طاقت نے صیہونی فوج کو ہلا کر رکھ دیا، اسرائیلی کمانڈر کا سنسنی خیز اعتراف
11:24 AM, 5 Apr, 2026