60 برس بعد کشور کمار کا گانا پھر مقبول، جین زی کے احتجاجی کلچر کا حصہ بن گیا

11:55 AM, 5 Aug, 2026

نئی دہلی: ایک ایسا گانا جو تقریباً چھ دہائیاں قبل ریلیز ہوا تھا، آج ایک بار پھر نوجوان نسل میں مقبولیت حاصل کر رہا ہے۔ کشور کمار کی آواز میں گایا گیا مشہور گیت ’میرے محبوب قیامت ہو گی‘ کا ریمکس ورژن سوشل میڈیا پر جین زی کی آواز بن کر گردش کر رہا ہے۔

بھارت میں حالیہ طلبہ مظاہروں کے دوران نوجوانوں نے احتجاج کے منفرد انداز اپنائے، جہاں انہوں نے مختلف فلمی گانوں پر پرفارمنس دی اور کچھ شرکا سپائیڈر مین، بیٹ مین اور ہلک جیسے معروف سپر ہیروز کے لباس میں بھی نظر آئے۔

اسی دوران ’میرے محبوب قیامت ہو گی‘ کے ریمکس ورژن نے سب کی توجہ حاصل کرلی۔ تاہم موجودہ وائرل آڈیو کشور کمار کی اصل ریکارڈنگ نہیں بلکہ گلوکار ابھے جین کی آواز میں تیار کیا گیا نیا ورژن ہے، جسے بعد میں ڈی جے لکشمن راوت اجمیر، ڈی جے راجو اور ڈی جے گِردھاری نے ریمکس کیا۔

2019 میں شروع ہونے والا رجحان ,اس گانے کے ایک حصے نے 2019 میں پہلی بار سوشل میڈیا پر مقبولیت حاصل کی، جب انفلوئنسرز فیصل شیخ اور حسنین خان نے اسے اپنی ویڈیوز میں شامل کیا۔

بعد ازاں ٹک ٹاک اور انسٹاگرام پر اس گانے کے ساتھ مخصوص انداز میں سر ہلانے کا ٹرینڈ شروع ہوگیا، جسے ہزاروں صارفین نے اپنایا اور اپنی ویڈیوز بنائیں۔

رپورٹس کے مطابق موجودہ ریمکس ورژن کو یوٹیوب پر 10 کروڑ سے زائد مرتبہ دیکھا جا چکا ہے۔

انسٹاگرام کریئیٹر ابھینوِشٹ نے احتجاج کے دوران اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اس گانے پر منفرد انداز میں ڈانس کیا، جس کی ویڈیو دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہوگئی۔

بعد میں دیگر احتجاجی مظاہروں میں بھی نوجوانوں نے اسی گانے کو اپنی ویڈیوز کا حصہ بنایا۔ اس ٹرینڈ کی مقبولیت اتنی بڑھی کہ فلم ’کھوسلا کا گھوسلا 2‘ کی کاسٹ کے فنکار انوپم کھیر، بومن ایرانی، پروین ڈاباس اور رنویر شوری بھی اس انداز کو آزمانے لگے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ جس گانے پر آج کی نوجوان نسل ویڈیوز بنا رہی ہے، اس کا تعلق 1964 میں ریلیز ہونے والی فلم ’مسٹر ایکس اِن بمبئی‘ سے ہے۔

’میرے محبوب قیامت ہو گی‘ کے بولوں میں شامل ’آج رسوا تیری گلیوں میں محبت ہو گی‘ والا حصہ کئی دہائیوں بعد بھی لوگوں کی توجہ حاصل کر رہا ہے۔ اس گانے کی موسیقی لکشمی کانت پیارے لال نے ترتیب دی تھی، جبکہ آواز کشور کمار کی تھی۔ گیت کے بول آنند بخشی اور اسد بھوپالی نے تحریر کیے تھے۔

فلم میں کشور کمار نے ایک ایسے شاعر کا کردار ادا کیا تھا جو محبت میں ناکامی کے بعد شدید جذباتی کیفیت سے گزرتا ہے۔ گانے کی درد بھری دھن اور جذباتی انداز نے اسے کئی نسلوں تک مقبول رکھا اور اب یہی گیت ایک نئے انداز میں نوجوانوں تک پہنچ رہا ہے۔

مزیدخبریں