میجر محمد اکرم شہید (نشانِ حیدر) کا 54 واں یومِ شہادت

10:37 AM, 5 Dec, 2025

جہلم  : آج 5 دسمبر کو ہِلّی کے محاذ پر عظیم بہادری کی داستان رقم کرنے والے میجر محمد اکرم شہید کا 54 واں یومِ شہادت عقیدت و احترام سے منایا جا رہا ہے۔ میجر اکرم نے اپنی جان کی قربانی دے کر دفاعِ وطن میں بے مثال جرات و شجاعت کا مظاہرہ کیا، اور ان کی قربانی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

میجر محمد اکرم 4 اپریل 1938ء کو ضلع گجرات کے گاؤں ڈنگہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے خاندان کے بیشتر افراد کا تعلق پاک فوج سے تھا، جس کے باعث انہیں سپاہ گری اور دلیری وراثت میں ملی۔ 1961 میں پاک فوج میں شمولیت اختیار کرنے والے میجر اکرم 1971 کی پاک بھارت جنگ کے دوران مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) میں ہِلّی کے محاذ پر اپنی کمپنی کی قیادت کر رہے تھے۔

1971 کی جنگ کے دوران، جب دشمن کی فوج نے آپ کی کمپنی کے دفاعی حصار کو توڑنے کی کوشش کی، تو میجر اکرم اور ان کے جوانوں نے 5 دن اور 5 راتوں تک دشمن کے ہر حملے کو ناکام بنایا۔ 5 دسمبر 1971 کو دشمن نے آپ کی کمپنی کو چاروں طرف سے گھیر لیا، مگر میجر اکرم نے اپنے جوانوں کو گولہ بارود احتیاط سے استعمال کرنے کی ہدایت دی تاکہ دشمن پر بھرپور حملہ کیا جا سکے۔

ان کے فرمان کے مطابق، میجر اکرم اور ان کے ساتھیوں نے دشمن کے حملے کو ناکام بنانے کے بعد اچانک اور جرات مندانہ حملہ کیا، جس سے دشمن کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ اس کے باوجود، دشمن کی پیش قدمی روکنے میں کامیابی حاصل کی گئی اور ہِلّی کی سرزمین پر دشمن ایک انچ بھی نہ بڑھ سکا۔

میجر اکرم شہید نے اس معرکے میں اپنی جان قربان کر دی، مگر ان کی قربانی اور شجاعت کو پاکستانی قوم ہمیشہ یاد رکھے گی۔ ان کی جرات اور عزم کے اعتراف میں انہیں پاکستان کے سب سے بڑے فوجی اعزاز نشانِ حیدر سے نوازا گیا۔ ان کی شجاعت اور قربانی کا اعتراف نہ صرف پاکستان، بلکہ ہندوستانی کمانڈر انچیف نے بھی کیا۔

میجر اکرم شہید کے یومِ شہادت پر ملک بھر کی مساجد میں قرآن خوانی اور دعاؤں کا اہتمام کیا گیا۔ علماء کرام نے شہید کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعائیں کیں اور ان کی قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر علماء نے کہا کہ "شہداء کا لہو پوری قوم پر قرض ہے"، اور یہ کہ "شہید ہمیشہ زندہ رہتے ہیں، کیونکہ زندہ قومیں اپنے محسنوں کو کبھی نہیں بھولتیں۔"

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی میجر محمد اکرم کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ "ہِلّی کی سرزمین آج بھی میجر اکرم کی شجاعت اور بہادری کی گواہ ہے۔ وہ دشمن کی یلغار کے سامنے دیوار بن کر کھڑے رہے، اور ان کی بے مثال جرات نے ہِلّی کے دفاع کو مضبوط بنایا۔"

انہوں نے مزید کہا کہ "یہ معرکہ ثابت کرتا ہے کہ کم وسائل کے باوجود، ایمان، ارادہ اور جذبہ دشمن کو روک سکتے ہیں۔ میجر اکرم شہید کی قربانی ہمارے لیے ایک مشعل راہ ہے، جو ہمیں بتاتی ہے کہ مشکل وقت میں ڈٹ جانا ہی اصل قوت ہے۔"

مزیدخبریں