"بھارت میں فرقہ وارانہ بیانیے کو سرکاری پشت پناہی حاصل ہے" سابق ہوم سیکرٹری گوپال پلئی

12:44 PM, 5 Jun, 2025

نیوویب ڈیسک

نئی دہلی :  بھارت کے سابق ہوم سیکرٹری گوپال پلئی نے مودی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں نفرت اور فرقہ وارانہ سیاست کو ریاستی سرپرستی حاصل ہے۔ ایک نجی ٹی وی انٹرویو میں کرن تھاپر سے گفتگو کرتے ہوئے گوپال پلئی نے الزام عائد کیا کہ بھارتی حکومت ایسے افراد کو نہ صرف نظر انداز کرتی ہے جو اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز زبان استعمال کرتے ہیں بلکہ ان کی ترقی بھی کی جاتی ہے۔

انٹرویو میں کرن تھاپر کی جانب سے پوچھا گیا کہ جب سرعام "گولی مارو سالوں کو" جیسے نعرے لگانے والوں کو سزا دینے کے بجائے ان کو عہدے دیے جاتے ہیں، تو یہ حکومت کا کیا پیغام ہے؟ اس پر گوپال پلئی کا کہنا تھا "ایسے افراد کو ترقی دینا یہ واضح پیغام دیتا ہے کہ اگر آپ نفرت انگیز زبان استعمال کریں گے تو حکومت آپ کے ساتھ ہوگی۔"

انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی پر الزام لگایا کہ وہ اپنے آئینی حلف کی روح کے برخلاف اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کی اجازت دے رہے ہیں، اور یہ عمل ریاستی سطح پر ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق، "بھارت میں مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنانا اب ایک ریاستی پالیسی کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔"

گوپال پلئی نے ملک کے ہندو طبقے کو بھی مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ خاموش ہیں وہ دراصل ملک کے اتحاد کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ "خاموشی خود ایک خطرہ ہے۔ اگر اکثریتی طبقہ خاموش رہا تو بھارت میں داخلی انتشار، مذہبی تفریق اور ممکنہ خانہ جنگی کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔"

انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی ترقی اس وقت ممکن نہیں جب وہاں فرقہ وارانہ فسادات ہوں۔ "اگر موجودہ حالات کا سدباب نہ کیا گیا تو تاریخ مودی حکومت کو بھارت کی جمہوریت کا ایک تاریک باب قرار دے گی۔" ان کا کہنا تھا کہ بھارت کا اصل اتحاد مذہبی رواداری میں ہے، اور جو حکومت اس بنیاد کو متزلزل کرے گی، وہ بھارت کو اندر سے کمزور کر دے گی۔ 

مزیدخبریں