اگر حملہ نہ کرتے تو ایران ایٹم بم بنا چکا ہوتا ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

09:38 AM, 5 Mar, 2026

واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹیبل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے خلاف حملے کی جواز پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ ایران پر حملہ نہ کرتے تو دو ہفتوں میں ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہو چکے ہوتے۔ ان کا کہنا تھا کہ حملوں نے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روک دیا ہے اور اس نے ایران کو اس معاملے میں پیچھے ہٹا دیا ہے۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران نے 4 سال قبل جوہری معاہدہ ختم کر دیا تھا، اور اس کے نتیجے میں ایرانی قیادت کی تیزی سے خاتمے کا عمل جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران میں جو لیڈر بننے کی کوشش کر رہے تھے، انہیں حملوں میں مارا گیا ہے۔

امریکی صدر نے ایران میں ہونے والی قتل و غارت کو بھی روکنے کی بات کی اور کہا کہ ایران کے حوالے سے امریکا بہت مضبوط پوزیشن میں ہے، اور جنگی محاذ پر ان کی پوزیشن توقع سے بھی بہتر ہے۔ ٹرمپ نے کہا، "کسی نے مجھ سے پوچھا کہ 10 میں سے کتنے نمبر دیں گے؟ میں نے کہا 15 دوں گا۔"

ٹرمپ نے اس موقع پر ایران کے میزائلوں اور لانچرز کا صفایا کرنے کا دعویٰ بھی کیا اور کہا کہ ایران نہ صرف اپنے پڑوسیوں بلکہ اپنے اتحادیوں کو بھی نشانہ بنا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اوباما کی ایران سے جوہری ڈیل انتہائی نقصان دہ تھی، کیونکہ اس میں ایران کو بہت کچھ دے دیا گیا تھا۔

مزیدخبریں