ایران کے میزائل حملوں کے خلاف یورپی یونین خلیجی ممالک کے ساتھ کھڑی ہو گئی: برسلز سے مشترکہ اعلامیہ جاری

09:32 PM, 5 Mar, 2026

برسلز: یورپی یونین   کے رہنماؤں نے خلیجی ممالک پر ایران کے حالیہ میزائل اور ڈرون حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے عرب ممالک کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ برسلز میں ہونے والے اہم مذاکرات کے بعد جاری کردہ مشترکہ بیان میں ان حملوں کو "ناقابلِ دفاع" قرار دیا گیا ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کلاس اور دیگر یورپی رہنماؤں نے خلیج تعاون کونسل (GCC) کے حکام سے ملاقات کی۔ اعلامیہ کے مطابق   وزراء نے خلیجی ممالک پر ایرانی حملوں کی سختی سے مذمت کی، جو علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ بن چکے ہیں۔ اعلامیہ میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ خلیجی ممالک کو اپنی سلامتی، استحکام، زمین اور شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔
 ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ خلیجی خطے میں اپنی عسکری کارروائیاں فوری طور پر بند کرے۔یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کے بعد خطے میں جنگ کے بادل گہرے ہو رہے ہیں۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق    ہفتے کے روز سے جاری امریکی و اسرائیلی حملوں میں اب تک کم از کم 1,230 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔    امریکہ نے بدھ کے روز بین الاقوامی پانیوں میں ایک ایرانی بحری بیڑے (Frigate) کو غرق کرنے کا دعویٰ کیا ہے جس میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔
    اسرائیل نے اپنی فوجی مہم کا دائرہ کار لبنان تک پھیلا دیا ہے۔رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے قطر، بحرین اور کویت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جہاں خاص طور پر توانائی کے بنیادی ڈھانچے (Energy Infrastructure) کو ہدف بنایا گیا ہے۔ ماہرین کا خدشہ ہے کہ ان حملوں سے عالمی توانائی کی منڈیاں بری طرح متاثر ہو سکتی ہیں، جس سے تیل اور گیس کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہو سکتا ہے۔
برسلز سے موصولہ اطلاعات کے مطابق، یورپ اپنے خلیجی اتحادیوں کی مدد کے لیے تیار ہے، تاہم یورپی رہنماؤں کی ترجیح ایک ایسا حل ہے جو ثالثی کے ذریعے کشیدگی میں کمی (De-escalation) کا باعث بنے۔ دوسری جانب، برطانیہ اور فرانس نے پہلے ہی دفاعی امداد کے لیے اپنے بحری بیڑے قبرص روانہ کر دیے ہیں۔

مزیدخبریں