بھارت نے جارحیت کی، تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا: اسحاق ڈار

01:06 PM, 5 May, 2025

اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے واضح کیا ہے کہ بھارت خطے میں کشیدگی کو ہوا دے رہا ہے اور جنگ کی طرف دھکیلنے کی کوشش کر رہا ہے، مگر پاکستان کسی صورت پہلا قدم نہیں اٹھائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بھارت نے جارحیت کی، تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

اسلام آباد میں منعقدہ "علاقائی مکالمہ 2025" کے دوران خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پہلگام واقعے کو بنیاد بنا کر بھارت نے بے بنیاد الزامات عائد کیے، حالانکہ واقعے کی ایف آئی آر جس تھانے میں درج ہوئی وہاں پہنچنے میں ہی 45 منٹ لگتے ہیں، جبکہ واقعہ اس سے پہلے درج کر لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت دنیا کو گمراہ نہ کرے، پاکستان اس واقعے میں ملوث نہیں۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ بھارت نے یہ ڈرامہ اپنے اندرونی مسائل، خصوصاً انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور ریاستی تحریکوں سے توجہ ہٹانے کے لیے رچایا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے لاکھوں افراد کی زندگیاں خطرے میں ہیں، جبکہ پاکستان ہمیشہ خطے میں امن کا حامی رہا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم نہیں کر سکتا، اور اگر پانی روکا گیا تو یہ جنگی اقدام تصور ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنے حصے کے پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں چھوڑے گا۔

اسحاق ڈار نے بتایا کہ قومی سلامتی کمیٹی نے بھارت کے ممکنہ اقدامات کے پیش نظر اہم فیصلے کیے اور ان پر فوری عمل کیا گیا۔ عالمی برادری کی جانب سے پاکستان کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مشورہ بھی دیا گیا۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ 29 اور 30 اپریل کی درمیانی شب بھارتی طیارے پاکستانی حدود میں داخل ہوئے لیکن پاک فضائیہ نے فوری ردعمل دیتے ہوئے انہیں پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔

اسحاق ڈار نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ خطے کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا نوٹس لے، اور مسئلہ کشمیر کو کسی صورت نظر انداز نہ کرے، کیونکہ پاکستان اپنی سرزمین دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا اور ہر جارحیت کا منہ توڑ جواب دے گا۔

مزیدخبریں