"بھارت میں گوبھی سے مسلمانوں کو نسل کشی کی دھمکیاں: سوشل میڈیا پر انتہاپسندی کا خطرناک رجحان"

03:23 PM, 5 May, 2025

نئی دہلی:بھارت میں انتہاپسند ہندوتوا کے حامیوں نے حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر ایک نیا نفرت انگیز رجحان شروع کیا ہے، جس میں گوبھی جیسے عام سبزی کو مسلمانوں کے خلاف دھمکی دینے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ پیغام دراصل بھارت میں 1989 کے بھاگلپور فسادات کی یاد دلاتا ہے، جب مسلمانوں کی لاشوں پر گوبھی کے پودے لگا دیے گئے تھے تاکہ اس قتلِ عام کو چھپایا جا سکے۔

مارچ 2024 میں مہاراشٹرا کے شہر ناگپور میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کے بعد سوشل میڈیا پر گوبھی کے کھیتوں کی تصاویر وائرل ہو گئیں۔ 1989 میں بھاگلپور کے شہر میں مسلمانوں کے خلاف ایک منظم قتلِ عام کیا گیا، جس میں سینکڑوں مسلمان مارے گئے تھے۔ ان کے قتل کے بعد، ان کی لاشوں پر گوبھی کے پودے لگائے گئے تاکہ اس جرم کے آثار مٹائے جا سکیں۔ یہ واقعہ کئی ہفتوں بعد اس وقت منظر عام پر آیا جب مقامی افسران نے لاشوں کی موجودگی کا پتہ چلایا۔اب 35 سال بعد، ہندوتوا کے حامیوں نے سوشل میڈیا پر گوبھی کے کھیتوں کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے اس خونریز ماضی کو دوبارہ زندہ کیا ہے۔ ان پوسٹس میں گوبھی کو ایک علامتی پیغام کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جو مسلمانوں کو اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ماضی کے قتلِ عام کو دوبارہ دہرایا جا سکتا ہے۔

سوشل میڈیا پر کچھ انتہاپسند ہندو صارفین نے کھلے عام کہا ہے کہ "یہ وقت ہے کہ گوبھی کی فصل دوبارہ شروع کی جائے"، جس کا مطلب ہے کہ مسلمانوں کو دھمکایا جائے اور ان کی خاموشی کو یقینی بنایا جائے۔ اس نفرتی پیغام کے ذریعے مسلمانوں کو پاکستان کی جانب سے "مسئلہ" تصور کیا جا رہا ہے اور انہیں کھلے عام خطرے میں ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

سوشل میڈیا نے نفرت کے پراپیگنڈے کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جہاں انتہاپسند عناصر نسل کشی کی وکالت کرتے ہیں۔ یہ میمز اور جھوٹے پیغامات عوامی سطح پر مذاق اور ہنسی میں تبدیل ہو جاتے ہیں، جس سے لوگوں کو ان دھمکیوں کا اثر نہیں ہوتا اور وہ انہیں معمولی سمجھ کر نظرانداز کر دیتے ہیں۔

یہ سوال اہم ہے کہ کیا عالمی برادری بھارت میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت اور نسل کشی کے اشاروں پر خاموش تماشائی بن کر بیٹھے گی؟ کیا بھارتی حکومت ان سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے خلاف کارروائی کرے گی جو مسلمانوں کے قتلِ عام کی ترغیب دے رہے ہیں؟ اگر ان دھمکیوں کو نظرانداز کیا گیا تو بھارت میں نفرت کی یہ لہر بڑھتی چلی جائے گی۔یہ اہم ہے کہ دنیا اور مسلم کمیونٹی ان خطرات کا مقابلہ کرے اور اپنی آواز بلند کرے، تاکہ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف جاری اس نفرت کو روکا جا سکے

مزیدخبریں