نئی دہلی: ہندوستانی فوج میں خواتین افسران کے خلاف جنسی ہراسانی، جسمانی حملے اور دھمکیوں کے سنگین کیسز سامنے آئے ہیں، جو فوج کی شفافیت اور نظم و ضبط کے دعووں کو شدید سوالیہ نشان بناتے ہیں۔
سنہ 2025 میں پٹیالہ کے ایک واقعے میں ایک خاتون میجر نے ایک حاضر سروس لیفٹیننٹ کرنل پر جنسی ہراسانی کا الزام لگایا۔ قانون کے مطابق شکایت POSH Act کے تحت ہونی چاہیے تھی، مگر فوجی حکام نے داخلی "انکوائری" کے ذریعے شکایت کو نظرانداز کیا اور متاثرہ پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ شکایت واپس لے لے۔
یہ واقعہ گزشتہ دہائی میں خواتین افسران کے خلاف جاری سنگین رجحانات کا حصہ ہے۔2015 میں سگنل کور کے ایک کرنل پر کپتان کی جانب سے جنسی ہراسانی کے الزامات، ابتدائی فوجی ردعمل سست رہا۔
2021-2025 میں ایک میجر کے خلاف گھریلو ملازمہ کے ساتھ جنسی زیادتی کے کیس میں عدالت کی مداخلت کے باوجود فوجی داخلی احتساب ناکافی رہا۔
2024 میں سری نگر میں ایک خاتون افسر نے ونگ کمانڈر کی جانب سے ہراسانی اور جسمانی حملے کی رپورٹ دی، مگر ملزم ضمانت پر رہا رہا۔
"2024-2025 میں میگھالیہ میں ایک بریگیڈیئر نے کرنل کی اہلیہ کو ہراساں کیا، تاہم ابھی تک کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا۔"
مدھیہ پردیش اور اوڑیسہ میں بھی خواتین افسران کے خلاف سنگین حملے اور جنسی زیادتی کے الزامات سامنے آئے۔
ماہرین کے مطابق فوج میں سینئرز کی طاقت کے غلط استعمال، قانونی عمل میں تاخیر اور POSH قانون کی عدم تعمیل کے باعث خواتین افسران کو انصاف نہیں مل رہا۔ فوجی درجہ بندی اور رینک کا غلط استعمال متاثرین کے لیے مزید مشکلات پیدا کرتا ہے۔
رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی فوج کے شفاف، منظم اور حب الوطنی کے دعوے حقیقی طور پر خواتین افسران کے تحفظ میں ناکام ہیں، اور اصلاحات اور سخت احتساب کی اشد ضرورت ہے۔