27 ویں آئینی ترمیم ،صوبائی خود مختاری اورسیاسی جماعتیں

06:37 PM, 5 Nov, 2025

تحریر: طارق وسیم

مسلمانان برصغیر نے آزادی کی تحریک شروع کی توپہلا مطالبہ تھا  کہ مسلم اکثریتی    علاقوں میں حکومت بنانا اور عددی تناسب کے حساب سے ریاستی اسمبلی میں نمائندگی۔1940 میں مسلم لیگ  کی  بنگال میں کامیابی کے بعد   قیام پاکستان کی راہ ہموار ہوئی .

مغربی اور مشرقی پاکستان مملکت خداداد کے دو الگ الگ حصے تھے۔ 1964 میں شیخ مجیب کی کوششوں سے مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ بحال ہو ئی اور وہ اس کے جنرل سیکریٹری بن گئے۔ اس پارٹی نے مشرقی پاکستان کے لیے مکمل صوبائی خود مختاری کا مطالبہ کر دیا جس میں مرکزی حکومت کے لیے صرف دفاع، وزارتِ خارجہ اور کرنسی کے شعبے رکھنے کی تجویز دی گئی تھی۔
جون 1964 میں عوامی لیگ نے 11 نکاتی منشور پیش کیا اور اس کے حق میں مشرقی پاکستان میں بھرپور مہم چلائی۔ بعد ازاں 1966 میں شیخ مجیب کے چھ نکاتی پروگرام میں ان مطالبات کو شامل کرلیا گیا۔

پاکستان میں آئین سازی کی تاریخ  1956 سے  شروع ہوئی۔ 1973 کا آئین بنا تو اس کی پہلی بڑی شق  صوبائی خود مختاری تھی۔1973 کے آئین نے پاکستان کو چار صوبوں کا وفاقی ملک قرار دیا: پنجاب، سندھ، سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا)، اور بلوچستان ۔ یہ آئین ایک پارلیمانی نظام قائم کرتا ہے، جس میں تمام صوبے وفاق کا حصہ بنتے ہیں اور صوبائی حکومتیں اپنی مخصوص حدود میں خود مختار ہوتی ہیں۔

وقت کے ساتھ ساتھ آئین میں کچھ  ترامیم ہوتی گئیں  اور یوں ملک پاکستان میں نظام حکومت آگے بڑھنے لگا ۔ میاں محمد نواز شریف جب  سیاست میں آئے تو پنجاب میں ووٹ بینک اور پنجابیوں کی سپورٹ نے انہیں وزارت عظمی ٰ تک پہنچا یا۔ اس وقت ان کی حریف پارٹی پیپلز پارٹی تھی جس نے وقت کی ضرورت کو سمجھتے ہوئے میثاق جمہوریت کا معاہدہ بھی کیا۔ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے  18 ویں آئینی ترمیم میں صوبائی خود مختاری مزید بڑھا ئی۔آج صوبے اپنی بجلی بنا سکتے ہیں ،تعلیم اور صحت کا شعبہ ان کی ذمہ داری ہے ،اور محصولات کی مد میں این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے ایک معقول رقم بھی انہیں ملتی ۔

اس وقت 27 ویں ترمیم کی بازگشت ہے ۔میڈیا میں گردش  مجوزہ دستاویز کے مطابق  بتایاجارہا ہے کہ  تعلیم اور صحت کا شعبہ وفاق کو واپس ملے گا،علاوہ ازیں این ایف سی ایوارڈ میں  صوبوں کے حصے  کو حاصل تحفظ کا خاتمہ  ہو جائے گا ۔

آرٹیکل 243 میں بھی  تبدیلی کی  شنید ہے لیکن ابھی کچھ بھی وثوق سے نہیں کہاجاسکتا۔یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ   ،26 ویں آئین ترمیم کا نامکمل ایجنڈا پورا کیا جائے گا یعنی آئینی عدالتوں کا قیام اور ججز کی تقرری اور تبدیلی کا  اختیار  ،قومی اسمبلی  اور سینیٹ کی سٹینڈنگ  کمیٹیوں کے پاس آجائے گا ،ایگزیکٹو مجسٹریٹس تعینات ہوں گے ، چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کا طریقہ بھی تبدیل ہوگا۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ  جس طرح 26 ویں ترمیم آئی اسی طرح سیاسی جماعتیں  ایک دوسرے سے رابطے میں ہیں اور سب سیاسی قائدین کی ملاقاتیں ہورہی ہیں۔ سب جماعتیں اس  حوالے سے باقاعدہ بریفنگ اور  مسودہ پر آئینی بحث کی خواہاں ہیں ۔تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ  اونٹ کس کروٹ بیٹھے گااور کون کون سی شق میں ترمیم ہوگی اور تاریخ کا حصہ بن جائے گی۔

نوٹ: neonews.pkاوراس کی پالیسی کا  کالم نگار/بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے

طارق وسیم پاکستان بالخصوص لاہور کی صحافت میں جانا پہچانا نام ہے دو دہائی قبل انگریزی جرنلزم سے کیریئر کا آغاز کرنے والے طارق وسیم نے براڈ کاسٹ جرنلزم میں بطور رپورٹر،اینکر اور نیوز ڈیپارٹمنٹ میں  اپنی منفرد پہچان بنائی ہے

مزیدخبریں