دوحا : اسرائیل کے قطر کے دارالحکومت دوحا میں کیے گئے حملے کے بعد حماس کے سینئر رہنما اور جنگ بندی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ خلیل الحیہ نے پہلی بار عوامی طور پر اپنی موجودگی کا اعلان کر دیا ہے۔
اسرائیل نے دعویٰ کیا تھا کہ اس حملے میں خلیل الحیہ سمیت تمام فلسطینی مزاحمت کار شہید ہو گئے ہیں، مگر حماس نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ خلیل الحیہ اور حماس کی قیادت محفوظ ہے۔
عرب ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں خلیل الحیہ نے نہ صرف اپنے بچ جانے کی تصدیق کی بلکہ بتایا کہ اس حملے میں ان کے بیٹے اور چیف آف اسٹاف شہید ہو گئے۔ خلیل الحیہ نے خود شہداء کی نماز جنازہ بھی پڑھائی۔
یہ حملہ اسرائیل کی طرف سے حماس کی قیادت کو ختم کرنے کی کوشش تھی، تاہم خلیل الحیہ کی بحفاظت واپسی حماس کے لیے ایک اہم سیاسی پیغام ہے۔