بھارت کی جانب سے اضافی پانی کے اخراج سے جنوبی پنجاب اور سندھ میں شدید سیلاب، ہزاروں افراد متاثر

09:28 AM, 5 Sep, 2025

لاہور/ملتان/سکھر : بھارت کی جانب سے دریاؤں میں اچانک اضافی پانی چھوڑنے کے باعث پاکستان کے جنوبی اور وسطی علاقوں میں شدید سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ دریائے ستلج، راوی اور چناب میں طغیانی کے باعث متعدد حفاظتی بند ٹوٹ گئے، درجنوں دیہات زیرِ آب آ گئے اور لاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں۔

منڈی بہاؤالدین میں دو نوجوان سیلابی پانی میں ڈوب کر جاں بحق ہو گئے، جبکہ ریسکیو اداروں کی جانب سے جاری امدادی کارروائیوں کے دوران اب تک 1312 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔

شجاع آباد کے علاقے شیر شاہ کے قریب بستی گاگرہ کا حفاظتی بند ٹوٹ گیا، جہاں 200 فٹ چوڑا شگاف پڑنے سے سیلابی پانی قریبی بستیوں میں داخل ہو گیا۔ ملتان کی بستی گرے والا میں بھی پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ان علاقوں میں کھڑی فصلیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔

دریائے چناب میں شورکوٹ کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جہاں سلطان باہو پل سے 2 لاکھ 60 ہزار کیوسک کا ریلا گزر رہا ہے۔ تریموں بیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ 31 ہزار کیوسک ہو گئی ہے، جس سے قریبی آبادیاں خطرے کی زد میں ہیں۔

دریائے سندھ کے سیلابی ریلے گڈو، سکھر اور کوٹری بیراجوں تک پہنچ چکے ہیں۔ گڈو بیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ 57 ہزار 196 کیوسک جبکہ اخراج 3 لاکھ 37 ہزار 746 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سکھر بیراج اور کوٹری پر بھی پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ جاری ہے، جس کے نتیجے میں نشیبی علاقے زیرِ آب آنے لگے ہیں۔

چنیوٹ، خانیوال، احمد پور سیال اور دیگر علاقوں میں ریسکیو ٹیمیں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں، تاہم کئی مقامات تک پانی کی شدت کے باعث پہنچنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔ چنیوٹ کے علاقوں ٹھٹھہ ہشمت اور موضع ڈوم میں جاری آپریشن کے دوران 25 افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔

محکمہ موسمیات اور محکمہ آبپاشی نے پنڈی بھٹیاں، ساہیوال، چیچہ وطنی، اور عارف والا سمیت کئی علاقوں میں ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ قطب شہانہ کے مقام پر دریائے راوی میں 1 لاکھ 31 ہزار 500 کیوسک کا ریلا گزر رہا ہے، جو مزید تباہی کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔

جنوبی پنجاب کے بیشتر علاقوں میں کپاس، گنا، مکئی اور سبزیوں کی فصلیں مکمل طور پر زیرِ آب آ چکی ہیں، جس سے کاشتکار شدید معاشی نقصان کا شکار ہو چکے ہیں۔ زرعی ماہرین نے فوری تخمینہ لگانے اور معاوضے کی ادائیگی کا مطالبہ کیا ہے۔

ضلعی انتظامیہ اور صوبائی حکومتیں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ نشیبی علاقوں سے فوری انخلاء کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں 1122 یا مقامی ریسکیو ہیلپ لائنز پر رابطہ کریں۔

مزیدخبریں