افغانستان میں ایک اور شدید زلزلہ، 4 دنوں میں تیسرا زلزلہ، ہلاکتیں 2200 سے تجاوز کر گئیں

09:46 AM, 5 Sep, 2025

کابل/اسلام آباد: افغانستان کے جنوب مشرقی علاقوں میں ایک اور شدید زلزلہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو گزشتہ چار دنوں کے دوران اس خطے میں آنے والا تیسرا زلزلہ ہے۔ تازہ زلزلے کی شدت 6.2 ریکارڈ کی گئی، جس کے جھٹکے پاکستان کے کئی علاقوں میں بھی محسوس کیے گئے۔

جرمن ریسرچ سینٹر فار جیوسائنسز کے مطابق زلزلے کا مرکز پاکستانی سرحد کے قریب شیوہ ضلع میں تھا، جبکہ اس کی گہرائی صرف 10 کلومیٹر تھی، جو سطح زمین کے قریب ہونے کی وجہ سے نقصان دہ ثابت ہوا۔

زلزلے سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں کنڑ اور ننگرہار صوبے شامل ہیں، جہاں ہزاروں مکانات مکمل طور پر منہدم ہو چکے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق برکش کوٹ کے علاقے میں بھی بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے۔

طالبان انتظامیہ کے مطابق، گزشتہ 4 دنوں میں آنے والے تین زلزلوں کے نتیجے میں اب تک 2,205 افراد جاں بحق اور کم از کم 3,640 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔

ریسکیو ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے دن رات کوشش کر رہی ہیں۔ امدادی کارکنوں نے کئی لاشیں نکال لی ہیں، تاہم اب بھی درجنوں افراد لاپتہ ہیں۔ متاثرہ لوگ کھلے آسمان تلے سرد موسم اور بارش میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

اقوام متحدہ اور عالمی امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ ان علاقوں میں خوراک، طبی امداد، اور شیلٹر کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے، اور کئی دیہی علاقے اب بھی امدادی ٹیموں کی رسائی سے دور ہیں۔

یاد رہے، اتوار کو آنے والا پہلا زلزلہ شدت 6 کے ساتھ حالیہ برسوں کا بدترین زلزلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کے بعد منگل کو 5.5 شدت کا دوسرا زلزلہ آیا، جس نے جاری ریسکیو آپریشنز کو متاثر کیا، اور کئی پہاڑی علاقوں سے چٹانیں گرنے کے باعث رابطے منقطع ہو گئے۔

ماہرین کے مطابق افغانستان اور پاکستان کی سرحدی پٹی فالٹ لائن پر واقع ہے، جہاں زمین کی پرتیں مسلسل حرکت میں رہتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ یہاں زلزلوں کا آنا معمول بن چکا ہے۔ تاہم، مسلسل تین زلزلے آنا غیرمعمولی اور خطرے کی گھنٹی تصور کیا جا رہا ہے۔

مزیدخبریں