ایران کے زیرِ زمین جوہری مرکز پر جلد شدید حملہ کریں گے، امریکی صدر ٹرمپ

09:56 AM, 5 Sep, 2026

 واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کے حوالے سے ایک بار پھر سخت دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ایران کے زیرِ زمین جوہری مقام  پک ایکس ماؤنٹین  کو بہت جلد شدید حملوں کا نشانہ بنا سکتا ہے۔

 عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری صورتحال کو فوجی تنازع قرار دیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ امریکا کے لیے کوئی بڑا معاملہ نہیں۔

 امریکی صدر نے کہا کہ امریکا اس سے قبل وینزویلا سمیت دیگر محاذوں پر بھی کارروائیاں کر چکا ہے۔ انہوں نے پک ایکس ماؤنٹین پر ممکنہ حملے کا عندیہ تو دیا، تاہم حملے کے لیے کسی حتمی تاریخ یا وقت کا اعلان نہیں کیا۔

 پک ایکس ماؤنٹین ایران کی اہم جوہری تنصیبات میں شامل ہے اور زیرِ زمین انتہائی گہرائی میں واقع ہونے کے باعث اسے محفوظ ترین مقامات میں شمار کیا جاتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق پہاڑ کے اندر دو ٹنل کمپلیکس موجود ہیں، جس کے باعث یہ کسی بھی فوجی کارروائی کے لیے انتہائی مشکل ہدف سمجھا جاتا ہے۔

 تجزیہ کاروں کے مطابق تنصیب کی غیر معمولی گہرائی کے باعث ممکنہ امریکی حملے کے طریقہ کار اور اس کے نتائج کے بارے میں کئی سوالات موجود ہیں۔

 یہ دھمکی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ایران کی جوہری تنصیبات پہلے ہی امریکی اور اسرائیلی حملوں کا سامنا کر چکی ہیں۔ نطنز میں یورینیم افزودگی کی تنصیب کو شدید نقصان پہنچنے کی اطلاعات کے بعد ایران نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے معائنوں اور معلومات تک رسائی پر بھی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

مزیدخبریں