سیالکوٹ: وزیر دفاع خواجہ آصف نے پیپلزپارٹی کی پالیسی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرائیکی صوبے کی بات ہو تو پیپلزپارٹی نرم گوشہ ظاہر کرتی ہے، لیکن مزید انتظامی یونٹس کی بات شروع ہوتے ہی سندھو دیش کا ذکر کیا جاتا ہے۔ پیپلزپارٹی کی اس دو رخی پالیسی کے پیچھے وہ کچھ اور دیکھ رہے ہیں۔
سیالکوٹ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی اٹھارویں ترمیم کے ذریعے طے ہوئی تھی، تاہم اس پر تاحال مکمل عمل درآمد نہیں ہوسکا۔
وزیر دفاع نے پمز کے واقعے پر بھی اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ پمز کا سانحہ کرپشن کے باعث پیش آیا، صحت کے شعبے میں جتنی لوٹ مار ہے، اتنی کہیں اور نہیں۔ جو کچھ پمز میں ہوا وہ خطرے کی گھنٹی ہے۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اینٹی کرپشن نے منظم طریقے سے کرپٹ لوگوں کے خلاف کارروائی کی ہے۔