واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری کشیدگی کو فیصلہ کن مرحلے میں داخل کرتے ہوئے منگل کی رات 8:00 بجے (ایسٹرن ٹائم) کی حتمی ڈیڈ لائن دے دی ہے۔ صدر ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ یہ ایران کے لیے امن کا آخری موقع ہے، بصورتِ دیگر اسے ایسی تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا جو پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔
صدر ٹرمپ نے اپنے مخصوص سخت لہجے میں ایران کو انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگر مقررہ وقت تک معاہدہ طے نہ پایا تو ایران میں "پاور پلانٹ ڈے" اور "برج ڈے" منایا جائے گا۔ ان کا اشارہ ایران کے بجلی کے گھروں اور پلوں کو مکمل طور پر نشانہ بنا کر ملک کو تاریکی میں دھکیلنے اور نقل و حمل کا نظام مفلوج کرنے کی طرف تھا۔
صدر ٹرمپ نے مزید سخت دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ "اگر ایران نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو میں ان کا سب کچھ تباہ کر دوں گا اور ان کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کر لوں گا"۔ امریکی صدر کا موقف ہے کہ ایران کو اب ہر صورت میز پر آنا ہوگا یا پھر اپنے معاشی اور دفاعی ڈھانچے کی مکمل تباہی کے لیے تیار رہنا ہوگا۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ آج رات 10:00 بجے امریکی فوجی قیادت کے ہمراہ ایک ہنگامی پریس کانفرنس کریں گے۔ دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس کانفرنس میں کسی بڑے فوجی آپریشن (Operation Epic Fury) کے اگلے مرحلے کا باقاعدہ اعلان یا معاہدے کی صورت میں جنگ بندی کی تفصیلات جاری کی جا سکتی ہیں۔
دھمکیوں کے باوجود صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر "ڈیل" کی امید ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ آج بھی ایران سے ایک نئے اور جامع معاہدے کے لیے پرامید ہیں، لیکن اس کے لیے ایران کو امریکی شرائط تسلیم کرنی ہوں گی۔ایران اور امریکہ کے درمیان اس ڈیڈ لائن نے پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے اور عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ اب سب کی نظریں منگل کی اس ڈیڈ لائن اور صدر ٹرمپ کی رات 10 بجے ہونے والی پریس کانفرنس پر لگی ہیں۔
ٹرمپ کی ایران کو 'آخری وارننگ': منگل رات 8 بجے کی ڈیڈ لائن، 'تباہی' یا 'معاہدہ'؟
09:03 AM, 6 Apr, 2026