کیلیفورنیا:مصنوعی ذہانت (اے آئی) نے حالیہ برسوں میں ہماری روزمرہ کی زندگی میں اہم کردار ادا کیا ہے، خاص طور پر جب بات تعلقات کے مشوروں کی ہو۔ لیکن اب چیٹ جی پی ٹی میں ایک اہم تبدیلی کی جارہی ہے تاکہ یہ پیچیدہ رشتہ کے معاملات میں غیر ضروری مشورے دینے سے بچ سکے۔
اوپن اے آئی نے 4 اگست کو اعلان کیا کہ چیٹ جی پی ٹی اب اپنے صارفین کو رشتہ توڑنے یا ختم کرنے کے بارے میں مشورے نہیں دے گا۔ اس کی جگہ، چیٹ جی پی ٹی صارفین کو سوالات کے ذریعے اپنے فیصلے خود کرنے کی ترغیب دے گا، تاکہ وہ اپنے فیصلوں کی بنیاد پر صحیح قدم اٹھا سکیں۔
اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ اب جب صارفین چیٹ جی پی ٹی سے رشتہ کے بارے میں سوال کریں گے جیسے کہ "کیا مجھے اپنے پارٹنر سے تعلق ختم کر دینا چاہیے؟"، چیٹ جی پی ٹی انہیں ایک براہ راست جواب نہیں دے گا۔ اس کے بجائے، یہ سوالات پوچھے گا جو صارف کو فوائد اور نقصانات کا جائزہ لینے کی ترغیب دیں گے۔
اوپن اے آئی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا، "ہم چاہتے ہیں کہ چیٹ جی پی ٹی آپ کے فیصلے کی رہنمائی کرے، نہ کہ آپ کے لیے فیصلہ کرے۔ یہ آپ کو سوچنے کی دعوت دے گا اور آپ کو اپنی ذاتی ضروریات اور جذبات کے مطابق فیصلہ کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔"
چیٹ جی پی ٹی کی اس نئی اپڈیٹ میں ماہرین کی مشاورت بھی شامل ہے۔ اوپن اے آئی نے ایک مشاورتی گروپ تشکیل دیا ہے جس میں ذہنی صحت کے ماہرین اور نوجوانوں کی ترقی کے ماہرین شامل ہوں گے، تاکہ صارفین کو زیادہ موثر اور حقیقت پسندانہ رہنمائی فراہم کی جا سکے۔
اوپن اے آئی کے سی ای او کا کہنا تھا کہ کچھ اپڈیٹس میں چیٹ جی پی ٹی کی شخصیت اتنی زیادہ ہمدرد ہو گئی تھی کہ یہ صارفین کے لیے تذبذب کا باعث بنتا تھا، اور اسی لیے ان تبدیلیوں کی ضرورت محسوس کی گئی۔
اوپن اے آئی کی نئی تبدیلیوں کا مقصد چیٹ جی پی ٹی کو زیادہ حقیقت پسندانہ اور ذمہ دار بنانا ہے تاکہ یہ پیچیدہ رشتہ کے معاملات کو بہتر طور پر سمجھ سکے اور صارفین کی مدد کرے، خاص طور پر جب وہ حساس فیصلوں کی طرف بڑھ رہے ہوں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ، "اے آئی رہنمائی فراہم کر سکتا ہے، مگر پیچیدہ رشتہ کے معاملات میں اس میں گہرائی کی کمی ہے، جسے اس نئی اپڈیٹ کے ذریعے بہتر بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔"
اس تبدیلی کے بعد چیٹ جی پی ٹی اب صارفین کو زیادہ معاونت فراہم کرے گا، لیکن اس کا مقصد یہ نہیں ہوگا کہ وہ کسی بھی رشتہ کے بارے میں فیصلہ دے سکے۔ اس کے بجائے، یہ صارف کو اپنی سوچ اور احساسات کی بنیاد پر درست فیصلہ کرنے کی ترغیب دے گا۔