پہلے سیزن کی شاندار کامیابی کے بعد پاکستان سپر لیگ(پی ایس ایل) کا دوسرا ایڈیشن نو فروری سے شروع ہونے والا ہے جہاں شائقین کرکٹ اپنے پسندیدہ انٹرنیشنل اسٹارز کو ایکشن میں دیکھنے کیلئے بے چین نظر آتے ہیں۔گزشتہ سال ہوم گراؤنڈ سے دوری، ماسٹرز چیمپیئنز لیگ کی مسلسل مداخلت اور دیگر قانونی و معاشی پیچیدگیوں کے باوجود پاکستان سپر لیگ کا پہلا ایڈیشن ہر لحاظ سے کامیاب رہا جہاں کھلاڑیوں نے عمدہ کارکردگی سے شائقین کے دل جیت لیے۔
اب آئندہ ہفتے سے ایک بار پھر پی ایس ایل شائقین کے جوش کو گرمانے کیلئے آ رہی ہے جہاں عالمی شہرت یافتہ کرکٹرز ایک بار پھر اپنی اپی ٹیم کی جیت کیلئے جدوجہد کرتے نظر آئیں گے لیکن اس مرتبہ کرکٹ کے متوالے چند نامور کرکٹ اسٹارز کو ایکشن میں نہیں دیکھ سکیں گے جنہوں نے گزشتہ ایڈیشن میں اپنی موجودگی سے لیگ کو چار چاند لگا دیے تھے۔
ان کرکٹرز کی فہرست میں سب سے پہلا نام آندرے رسل کا ہے جو ممنوعہ ادویہ استعمال کرنے پر ڈوپنگ قوانین کے سبب ایک سال کی پابندی کا شکار ہو گئے ہیں اور اس سال لیگ میں حصہ نہیں لے سکیں۔
گزشتہ سیزن کے آٹھ میچوں میں وہ نبی وکٹیں تو زیادہ نہ لے سکے لیکن محمد نواز اور ذوالفقار بابر کے ساتھ مل کر انہوں نے حریف ٹیموں پر مستقل دباؤ برقرار رکھا اور عمدہ کارکردگی سے اپنی ٹیم کو فائنل تک پہنچایا۔
بنگلہ دیش کے وکٹ کیپر بلے باز مشفیق الرحیم نے گزشتہ سیزن میں تین میچوں میں کراچی کنگز کی نمائندگی کی لیکن ناکامیوں سے دوچار ٹیم کی قسمت نہ بدل سکے لہٰذا 2017 کے ایڈیشن میں کسی بھی فرنچائز نے ان کی خدمات حاصل کرنے میں دلچسپی ظاہر نہ کی۔