ہیوسٹن : سائنسدانوں نے ناک کے ذریعے استعمال ہونے والا ایک نیا سپرے تیار کیا ہے جو فلو کی مختلف اقسام سے بچاؤ کے لیے مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ پیشرفت موسمی انفلوئنزا کی وباؤں کا مقابلہ کرنے میں ایک نئی حکمت عملی کے طور پر سامنے آئی ہے، جو ویکسین کی کمزوری کو دور کرنے میں مددگار ہو سکتی ہے۔
موجودہ ویکسین کی تیاری کے باوجود، موسمی انفلوئنزا ہر سال چھ لاکھ سے زائد اموات کا سبب بنتا ہے، اور وائرس کی نئی اقسام سامنے آتی رہتی ہیں، جو پچھلی نسل کی ویکسینوں کو کم مؤثر بنا دیتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، نئی اقسام وبا کے خطرات کو بڑھاتی ہیں۔ ان حالات میں سائنسدانوں نے انفلوئنزا سے بچاؤ کے لیے نئی حکمت عملیوں کی تلاش شروع کی ہے، جن میں اینٹی باڈی تھراپیز بھی شامل ہیں۔ تاہم، انجیکشن کے ذریعے دی جانے والی اینٹی باڈیز ناک کے میوکوس (جھلی) والے حصوں میں مؤثر نہیں ہوتیں۔
اب ہارورڈ ٹی ایچ چن سکول آف پبلک ہیلتھ کے محققین نے CR9114 کے نام سے ایک اینٹی انفلوئنزا اینٹی باڈی تیار کی ہے جسے ناک کے ذریعے جسم میں داخل کیا جا سکتا ہے۔ ابتدائی کلینیکل ٹرائلز میں یہ بات سامنے آئی کہ جب اس اینٹی باڈی کو صحت مند رضاکاروں کی ناک میں سپرے کیا گیا، تو یہ وائرس سے جڑ کر اسے ناکارہ بنا دیتی ہے۔
محققین نے 143 شرکا پر مشتمل دو ٹرائلز میں پایا کہ اینٹی باڈی نیزل سپرے انسانوں کے لیے نہ صرف محفوظ ہے بلکہ اس کو برداشت بھی کیا جا سکتا ہے۔ سائنس ٹرانسلیشنل میڈیسن میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق، CR9114 کے ناک کے ذریعے دی جانے والی تمام خوراکیں اور نظام الاوقات محفوظ اور قابل برداشت ثابت ہوئے ہیں۔
اس تحقیق میں مزید کہا گیا کہ یہ ڈیٹا انسانوں میں افادیت کے مطالعے کی بنیاد فراہم کرتا ہے اور یہ بتاتا ہے کہ ناک کے ذریعے استعمال ہونے والی CR9114 انفلوئنزا وائرس کے خلاف مؤثر مدافعتی تحفظ فراہم کر سکتی ہے۔
ٹیسٹ کے دوران مکاک بندروں پر بھی مختلف مقداروں اور نظام الاوقات میں اس سپرے کا تجربہ کیا گیا۔ اگرچہ اینٹی باڈیز ناک میں جمع ہو گئیں، جہاں وائرس سب سے پہلے حملہ کرتا ہے، مگر یہ تقریباً تین گھنٹے میں ختم ہو گئیں۔ محققین نے پایا کہ دن میں دو بار سپرے کرنے سے یہ انفلوئنزا A اور B دونوں کے خلاف بہترین تحفظ فراہم کرتا ہے۔
نیوزی لینڈ کے ملاگن انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ریسرچ کی ماہر امیونولوجسٹ ازابیل مونٹگمری نے کہا کہ اس سپرے کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ وائرس کے داخلے کے مقام یعنی ناک میں اینٹی باڈی کی بھاری مقدار پیدا کرتا ہے، اور نس کے ذریعے دی جانے والی اینٹی باڈی علاج کے مقابلے میں بہت کم خوراک استعمال ہوتی ہے۔ تاہم، یہ اینٹی باڈی ناک سے تیزی سے صاف ہو جاتی ہے، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ طویل المدتی ویکسینیشن کی جگہ نہیں لے سکتی، لیکن وبا کے دوران یہ قلیل مدتی تحفظ فراہم کر سکتا ہے۔