بلوچستان میں لاپتہ افراد کی آڑ میں دہشت گردی نیٹ ورک کا پردہ چاک

02:08 PM, 6 Feb, 2026

اسلام آباد :بلوچستان میں لاپتہ افراد کی آڑ میں دہشت گردی نیٹ ورک کا پردہ فاش ہوگیا ہے، جس سے فتنہ الہندوستان اور بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کے گٹھ جوڑ کا انکشاف ہوا ہے۔ حالیہ سیکیورٹی آپریشنز کے دوران ہلاک ہونے والے متعدد دہشت گردوں کے نام ان 'لاپتہ افراد' کی فہرست میں پائے گئے ہیں، جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ یہ بیانیہ محض دہشت گردوں کو تحفظ دینے کا ایک فریب تھا۔

بلوچستان میں ہونے والے آپریشنز میں ہلاک ہونے والے دہشت گردوں جیسے برہان بلوچ، حفیظ بلوچ، عبدالحمید اور راشد بلوچ کو 'لاپتہ افراد' قرار دے کر ان کے حوالے سے پروپیگنڈا کیا جا رہا تھا۔ ان دہشت گردوں کی ہلاکت نے اس جھوٹے بیانیے کو بے نقاب کر دیا ہے۔ یہ وہ ہی دہشت گرد تھے جنہوں نے مختلف دہشت گردانہ کارروائیوں میں حصہ لیا، جیسے کہ گوادر حملہ، نیول بیس حملہ اور مستونگ آپریشن میں ملوث افراد۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کا کردار بھی مشتبہ ہے، کیونکہ یہ کمیٹی معصوم نوجوانوں کو 'احساسِ محرومی' کے ذریعے دہشت گرد گروپوں میں بھرتی کرتی ہے، جس میں فتنہ الہندوستان اور بھارتی خفیہ ایجنسی 'را' (RAW) کی سرپرستی کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ یہ نیٹ ورک اب تک بلوچستان کے نوجوانوں کو دہشت گردی کی راہ پر لگانے کے لیے سوشل میڈیا اور دیگر وسائل کا استعمال کر رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق، بی وائی سی کا 'سافٹ چہرہ' دراصل فتنہ الہندوستان کی دہشت گردی کو تحفظ دینے کا ایک نقاب ہے، اور یہ اب مکمل طور پر بے نقاب ہو چکا ہے۔ انکشافات کے مطابق، اس نیٹ ورک میں کم عمر بلوچ بچیوں کو بھی خودکش حملہ آور بنانے کے لیے بلیک میل کیا جا رہا ہے، جو ایک انتہائی انسانیت سوز فعل ہے۔

یہ شواہد ثابت کرتے ہیں کہ 'لاپتہ افراد' کا بیانیہ صرف دہشت گردی کی کارروائیوں کو جواز فراہم کرنے کے لیے گھڑا گیا تھا، اور اس کے ذریعے بلوچ عوام کو گمراہ کیا جا رہا تھا۔ ان تمام انکشافات نے بلوچستان میں دہشت گردی کے نیٹ ورک کی حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے اور اس پروپیگنڈے کو ہمیشہ کے لیے زمین بوس کر دیا ہے۔

مزیدخبریں