راولپنڈی : ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے پریس کانفرنس میں کہا کہ سال 2025 دہشت گردی کے خلاف کامیابیوں سے بھرپور رہا۔
انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی جنگ ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ خوارج کا دین اسلام اور پاکستان سے کوئی تعلق نہیں اور ریاست پوری قوت سے دہشت گردی کو کچل دے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں اس وقت کوئی مستحکم حکومت موجود نہیں، اور سال 2025 میں دہشت گردی کے خلاف 75 ہزار سے زائد آپریشن کیے گئے، جس سے ملک میں امن و امان کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا ہوا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ افغانستان پورے خطے میں دہشت گردی کا مرکز بن چکا ہے۔ترجمان پاک فوج نے سوال اٹھایا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات کیوں ہو رہے ہیں اور اس بارے میں موثر اقدامات پر زور دیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ معرکہ حق میں بھارت کا منہ کالا کیا گیا اور اسے سبق سکھانا ضروری تھا۔پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ آپریشن سندور کی کالک ابھی تک بھارت کے منہ سے نہیں اتری، جو اس کامیابی کی گواہی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ ریاست انسداد دہشت گردی کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے اور اس سلسلے میں اہم اور مؤثر اقدامات کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست کا دہشت گردی کے خلاف مؤقف دوٹوک ہے اور دنیا نے پاکستان کے انسداد دہشت گردی اقدامات کو سراہا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کے مطابق پانچ سال قبل صورتحال یہ تھی کہ ایک دہشت گرد کے مارے جانے پر تین شہادتیں ہوتی تھیں، تاہم اب یہ تناسب تبدیل ہو چکا ہے اور ایک شہادت کے مقابلے میں دو دہشت گرد مارے جا رہے ہیں، جو سیکیورٹی فورسز کی مؤثر حکمت عملی کا ثبوت ہے۔
افغانستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغانستان دہشت گردوں کی آماجگاہ بن چکا ہے اور دنیا بھر کی مختلف دہشت گرد تنظیمیں وہاں سے اپنی کارروائیاں انجام دے رہی ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ اگر کسی بھی ملک میں پانچ فیصد کے برابر بھی دہشت گردی ہو تو وہ ریاست قائم نہیں رہ سکتی۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان خود کو اسلام کا علمبردار بنا کر پیش کرتا ہے، لیکن درحقیقت وہاں وار اکانومی چلائی جا رہی ہے، جسے برقرار رکھنے کے لیے جنگ کو دہشت گردی کی صورت میں پورے خطے میں پھیلایا جاتا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق افغانستان کو وار اکانومی کی عادت پڑ چکی ہے اور اس مقصد کے لیے نئے سپانسرز تلاش کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ہندوستان کی مالی معاونت اور سرپرستی سے افغانستان کی سرزمین سے دہشت گردی کی جا رہی ہے، جو پورے خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر بھارت اور افغانستان مل کر بھی آ جائیں تو دونوں کا شوق پورا کرتے ہیں ۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردی کے تمام بڑے واقعات میں افغانی بمبار ملوث نکلے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گردی کی جڑیں سرحد پار موجود ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ریاست دہشت گردی کے خلاف اپنی پالیسی پر قائم ہے اور کسی بھی دباؤ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ ایک منظم بیانیہ بنایا جا رہا ہے کہ پاکستانی فوج ڈرونز استعمال کرتی ہے، حالانکہ دہشت گردوں کے سرپرست اعلیٰ ہندوستان انہیں جدید ٹیکنالوجی اور سہولیات فراہم کر رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ خوارج نے مسلح آرمڈ کواڈ کاپٹرز کا استعمال شروع کر دیا ہے، جنہیں دہشت گردی اور نگرانی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خوارج مساجد، عوامی مقامات اور گھروں کو دہشت گردی کے لیے استعمال کرتے ہیں، جبکہ ان کا ایک مخصوص ونگ آرمڈ کواڈ کاپٹرز کے ذریعے کارروائیاں کرتا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق خوارج مساجد میں بیٹھ کر کواڈ کاپٹرز دہشت گردی کے لیے استعمال کرتے ہیں اور بچوں و خواتین کو ڈھال بنا کر کارروائیاں کی جاتی ہیں، جبکہ پاک فوج صرف دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو نشانہ بناتی ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ تین سطحوں پر لڑی جا رہی ہے، جن میں سرحدی محاذ، داخلی سیکیورٹی اور جدید ٹیکنیکل جنگ شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک دہشت گردی میں 410 کواڈ کاپٹر ڈرونز استعمال ہو چکے ہیں، جبکہ آئی ای ڈیز اور دیگر جدید ہتھیار بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ دہشت گرد آبادی، مساجد اور بچوں کو ڈھال بناتے ہیں، جو نہ صرف انسانیت بلکہ مقامی روایات کے بھی خلاف ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا آبادی کو ڈھال بنانا پختونوں کی روایت ہو سکتی ہے؟
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ پاک فوج خیبرپختونخوا سے نکل جائے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پاک فوج وفاقی حکومت کی ہدایات کے مطابق فرائض انجام دے رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بعض عناصر یہ بھی کہتے ہیں کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن نہیں ہونے دیں گے، حالانکہ سوات میں امن بڑی قربانیوں کے بعد بحال ہوا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے سوال اٹھایا کہ کیا کوئی دوبارہ سوات کو دہشت گردوں کے کنٹرول میں دینا چاہتا ہے؟
ترجمان پاک فوج نے واضح کیا کہ سکیورٹی فورسز کا مقصد صرف دہشت گردی کا خاتمہ اور عوام کے لیے پائیدار امن کا قیام ہے، اور ریاست اس حوالے سے کسی دباؤ کو قبول نہیں کرے گی۔
ترجمان پاک فوج لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ اے این پی سمیت کئی غیور سیاسی جماعتیں دہشت گردی کے خلاف کھل کر کھڑی رہیں، مگر کچھ عناصر ایسے بھی ہیں جو فتنہ الخوارج کے سامنے ڈٹنے سے گریزاں ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے سوال اٹھایا کہ فتنہ الخوارج بعض سیاسی جماعتوں کو نشانہ کیوں نہیں بناتی؟ ان کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ جماعتیں فتنہ الخوارج کی نظر میں قبولیت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں اور حتیٰ کہ افغانستان سے مدد مانگنے جیسے بیانات دے رہی ہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران ترجمان پاک فوج نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی ویڈیو بھی چلائی اور کہا کہ اس نوعیت کی گفتگو غیر سنجیدہ اور افسوسناک ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ نیشنل ایکشن پلان پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق رائے موجود ہے، جس میں پاک فوج اپنے حصے کی ذمہ داریاں پوری کر رہی ہے، جبکہ صوبائی حکومتوں، سول انتظامیہ اور سیاسی قیادت کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ بلوچستان میں ضلعی سطح پر کوآرڈینیشن کمیٹیاں قائم کی جا رہی ہیں، جو سیکیورٹی اداروں اور سول انتظامیہ کے درمیان رابطے کو مؤثر بنا رہی ہیں۔ ان کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان امن و امان کے قیام کے لیے سنجیدہ اور مثبت اقدامات کر رہے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جاری جدوجہد پاکستان کی سالمیت اور ریاست کے تحفظ کی جنگ ہے، اور اس میں کسی بھی دہشت گرد کے لیے کوئی ہمدردی نہیں ہو سکتی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان حق پر ہے اور ان شاء اللہ حق ہی غالب آئے گا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق کوئی بھی شخصیت پاکستان سے بڑھ کر نہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے پر ریاست اور سیکیورٹی فورسز کو فخر ہے۔
ترجمان پاک فوج نے واضح کیا کہ ریاست ہوگی تو سیکیورٹی ہوگی اور سیکیورٹی ہوگی تو کاروبار اور ترقی ممکن ہوگی۔ انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ ریاست بے اختیار ہے یا فیصلے نہیں کر سکتی، اور ایسے بیانیے کو مضحکہ خیز قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی مختلف فورمز پر دہشت گردی کے خلاف آپریشنز کی مخالفت کر رہی ہے، جبکہ ریاستی سطح پر دہشت گردی کے خلاف واضح پالیسی موجود ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ قدرتی وسائل اور معدنیات کا فائدہ خیبر پختونخوا کے عوام کو ملنا چاہیے اور اس حوالے سے تمام سیاسی جماعتوں کو قومی مفاد میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ پاک فوج وفاقی حکومت کا ادارہ ہے اور اس کی بنیادی ذمہ داری سرحدوں اور ملک کی سالمیت کا تحفظ ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاک فوج کا کسی سیاسی جماعت سے کوئی ذاتی مسئلہ نہیں ہے اور اس کا مقصد صرف دہشت گردی کے خلاف قومی سطح پر اقدامات کو مؤثر بنانا ہے۔