اسلام آباد / نئی دہلی : بھارتی فوج کی جانب سے "آپریشن سندور" کے دوران ہونے والے جانی نقصانات پر طویل عرصے تک خاموشی کے بعد اب اندرونی دباؤ اور حقائق کے سامنے آنے کے نتیجے میں ان اہلکاروں کو اعزازات دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جن کی ہلاکتیں ماضی میں تسلیم نہیں کی گئی تھیں۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق بھارتی حکومت نے ابتدائی طور پر آپریشن سندور میں ہونے والے نقصانات کو خفیہ رکھا تاکہ عوامی ردعمل اور عالمی سطح پر رسوائی سے بچا جا سکے۔ تاہم اب حکومت نے ان ہلاکتوں میں شامل 100 سے زائد فوجی اہلکاروں کو اعزازات سے نوازنے کا فیصلہ کیا ہے، جن میں لڑاکا پائلٹس، ایئر ڈیفنس آپریٹرز اور مختلف بریگیڈز کے اہلکار شامل ہیں۔
مصدقہ اطلاعات کے مطابق صرف لائن آف کنٹرول پر بھارت کو 250 سے زائد فوجیوں کی ہلاکت کا سامنا کرنا پڑا۔ تفصیلات کے مطابق انڈین ایئر فورس کے 7 اہلکار، 10 انفنٹری بریگیڈ کے 5 اہلکار، 93 بریگیڈ ہیڈکوارٹر کے 9 فوجی، 3 رافیل طیاروں کے ہوا باز، ایس-400 دفاعی نظام کے 5 آپریٹرز، ادھم پور ایئربیس اور دیگر یونٹس کے درجنوں اہلکار ان اعزازات کی فہرست میں شامل ہیں۔
سکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت نے پہلے ان نقصانات کو تسلیم نہ کر کے اپنی ہی فوج کے اہلکاروں کی قربانیوں کو نظر انداز کیا، جو کسی بھی پیشہ ورانہ افواج کے لیے غیرمعمولی رویہ سمجھا جاتا ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق ہلاک اہلکاروں کے لواحقین پر سوشل میڈیا پر خاموش رہنے کے لیے دباؤ بھی ڈالا گیا۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان کی جانب سے پٹھان کوٹ، اُدھم پور، اور راجوڑی جیسے علاقوں میں موثر کارروائیوں کے بعد بھارت کو جنگ بندی پر آمادہ ہونا پڑا۔ کچھ بھارتی عسکری اور سفارتی ذرائع نے ان نقصانات کو غیر رسمی طور پر تسلیم بھی کیا ہے۔
یاد رہے کہ 2019 میں بھی بھارت نے ونگ کمانڈر ابھینندن ورتھمان کو جہاز گرنے کے باوجود "ویر چکرا" سے نوازا تھا، جو اس امر کی مثال ہے کہ بعض اوقات اعزازات قومی وقار کی علامت کے طور پر بھی دیے جاتے ہیں، چاہے مشن کا انجام کچھ بھی ہو۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت اب انہی ہلاک فوجیوں کو اعزازات دے کر نہ صرف اندرونی دباؤ کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے بلکہ ماضی کی خاموشی پر پردہ ڈالنے کی سعی بھی کر رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس اقدام سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جنگی حقائق آخرکار دیر یا سویر سامنے آ جاتے ہیں۔