برطانیہ کا شام سے 14 سال بعد سفارتی تعلقات بحال کرنے کا اعلان

04:32 PM, 6 Jul, 2025

دمشق / لندن : برطانیہ نے شام کے ساتھ 14 برس بعد باضابطہ طور پر سفارتی تعلقات بحال کر دیے ہیں۔ اس پیش رفت کا اعلان برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی کے دورۂ دمشق کے دوران کیا گیا، جو شام میں حکومت کی تبدیلی کے بعد کسی بھی برطانوی وزیر کا پہلا سرکاری دورہ ہے۔

دورہ دمشق کے دوران وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے شام کے نئے صدر احمد الشراع اور وزیر خارجہ اسعد الشیبانی سے ملاقات کی۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان مستقبل کے تعلقات، شام کی تعمیر نو، اور سیاسی عبوری عمل میں برطانیہ کی حمایت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ڈیوڈ لیمی نے اس موقع پر کہا:"میں اسد حکومت کے اختتام کے بعد شام کا دورہ کرنے والا پہلا برطانوی وزیر ہوں۔ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ شامی عوام دوبارہ اپنی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے کس جذبے سے کام کر رہے ہیں۔"
انہوں نے مزید کہا کہ ایک مستحکم اور پرامن شام نہ صرف خطے بلکہ عالمی سلامتی، داعش کے خطرے کے خاتمے، اور غیر قانونی ہجرت پر قابو پانے کے لیے ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شام کے ساتھ تعلقات کی بحالی برطانیہ کی خارجہ پالیسی کے نئے وژن کا حصہ ہے۔


برطانوی حکومت نے شام میں مختلف شعبوں کے لیے مالی امداد کے کئی پیکیجز کا بھی اعلان کیا، جن میں شامل ہیں:

کیمیائی ہتھیاروں کے خاتمے کے لیے OPCW کو 2 ملین پاؤنڈ کی امداد
تعلیم، روزگار اور شامی مہاجرین کی مدد کے لیے 94.5 ملین پاؤنڈ کا امدادی پیکیج
گزشتہ دو برس میں شامی سول ڈیفنس (وائٹ ہیلمٹس) کو 5 ملین پاؤنڈ سے زائد کی امداد
برطانوی دفتر خارجہ کے مطابق، برطانیہ 2011 سے اب تک شام اور خطے میں انسانی امداد کے لیے 4.5 ارب پاؤنڈ خرچ کر چکا ہے۔

وزیر خارجہ لیمی نے واضح کیا کہ برطانیہ ایک محفوظ، پائیدار اور خوشحال شام کے قیام کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔

مزیدخبریں