کراچی: وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے لیاری میں عمارت گرنے کے افسوسناک واقعے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری پہلی ترجیح زندہ افراد کو بچانا تھی، اور ریسکیو آپریشن آج مکمل کر لیا جائے گا۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ اولڈ سٹی ایریا میں 400 سے زائد عمارتیں خطرناک قرار دی جا چکی ہیں، جن میں سے زیادہ تر ضلع جنوبی میں واقع ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ لیاری میں گرنے والی عمارت بغیر کسی اجازت یا منظوری کے تعمیر کی گئی تھی۔
مراد علی شاہ نے کہا:"اس غیر قانونی تعمیر کے ذمہ دار افراد کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا، اور انہیں سخت قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔"
انہوں نے مزید بتایا کہ گزشتہ شب آگرہ تاج میں جس عمارت کو خالی کرایا گیا، وہ بھی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) کی منظوری کے بغیر چند سال قبل تعمیر کی گئی تھی۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ:"کسی بھی فلیٹ یا رہائشی یونٹ کی خریداری سے قبل یہ ضرور چیک کریں کہ عمارت کو تمام قانونی منظوریاں حاصل ہیں یا نہیں۔"
مراد علی شاہ نے یہ بھی بتایا کہ اولڈ سٹی ایریا میں خطرناک قرار دی گئی عمارتوں کے مکینوں کے لیے متبادل رہائش کے انتظامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے، تاکہ ان کی زندگیوں کو ممکنہ خطرات سے بچایا جا سکے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت سندھ اس معاملے پر سنجیدگی سے کام کر رہی ہے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو متحرک کر دیا گیا ہے۔