اسلام آباد:واپڈا کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد سعید کاکہنا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ کے حوالے سے حالیہ پیش رفت اور بھارت کی آبی پالیسیوں میں تبدیلی پاکستان کے لیے سنگین سٹریٹجک اور آبی سلامتی کے چیلنجز پیدا کر رہی ہے۔
ایک موقر انگریزی روزنامے میں شائع ہونے والے تبصرے میں انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ گزشتہ 65 سال سے جنوبی ایشیا میں پانی کی تقسیم کا ایک مؤثر اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ نظام رہا ہے، جس نے پاکستان کے بڑے آبپاشی ڈھانچے کی بنیاد فراہم کی۔
چیئرمین واپڈا کے مطابق اس معاہدے کے تحت دریائی بہاؤ کی پیش گوئی نے پاکستان کو دنیا کے سب سے بڑے مربوط آبپاشی نظام یعنی انڈس بیسن اریگیشن سسٹم کی تعمیر میں مدد دی، جو زرعی پیداوار، خوراک کی ضروریات اور توانائی کے شعبے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ عرصے میں اپ سٹریم آبی منصوبوں اور دریائی ڈیٹا شیئرنگ میں مبینہ رکاوٹوں کے باعث پاکستان کی سیلابی پیشگوئی اور آبی انتظامی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے، جس سے انسانی جانوں اور انفراسٹرکچر کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد سعید نے خاص طور پر دریائے چناب کو پاکستان کے آبپاشی نظام کے لیے نہایت اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے بہاؤ میں کسی بھی قسم کی غیر یقینی صورتحال ملک کے زرعی اور اقتصادی استحکام پر اثر ڈال سکتی ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد سعید نے کہا کہ چناب میں مرالہ میں اوسطاً سالانہ 25 ملین ایکڑ فٹ بہاؤ ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دریا مرالہ، خانکی، قادر آباد، تریموں اور پنجند بیراجوں کے ذریعے تقریباً 10 ملین ایکڑ کھیتوں کو سیراب کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ کمانڈ ایریاز، پاکستان کے سب سے زیادہ پیداواری زرعی خطوں میں سے ایک کی نمائندگی کرتے ہیں، جو لاکھوں دیہی معاش کو سہارا دیتے ہوئے گندم، چاول، گنے اور دیگر اسٹریٹجک فصلوں میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
واپڈا کے چیئرمین نے وضاحت کی کہ چناب پاکستان کے باہم جڑے ہوئے سندھ طاس آبپاشی کے نظام کا ایک اہم جزو ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبی ذخائر، بیراج، لنک کینال اور آبپاشی کی نہریں ایک مربوط ہائیڈرولک نیٹ ورک کے طور پر کام کرتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پانی کے مشترکہ وسائل کے موثر اور شفاف انتظام کے لیے بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے، جبکہ کسی بھی یکطرفہ اقدام سے خطے میں غیر یقینی صورتحال بڑھ سکتی ہے۔پاکستانی حکام کے مطابق پانی کے بہاؤ کی پیشگی معلومات اور تعاون میں کمی ملک کی خوراک، توانائی اور ماحولیاتی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ بن سکتی ہے۔
ان کے مطابق، یہ جغرافیائی حقیقت پاکستان کے انڈس بیسن اریگیشن سسٹم کے آپریشنل استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے دریائے چناب کے بہاؤ کے اعتبار اور پیشنگوئی کو ضروری بناتی ہے۔