گلگت: گلگت بلتستان اسمبلی کے عام انتخابات کے لیے سیاسی جوڑ توڑ اور انتخابی گہما گہمی عروج پر پہنچ گئی ہے۔ اس بار انتخابات میں کئی ہائی پروفائل امیدواروں کی شمولیت نے مقابلوں کو انتہائی دلچسپ اور سنسنی خیز بنا دیا ہے، جس میں 2 سابق وزرائے اعلیٰ، ایک سابق گورنر، موجودہ گورنر کا بیٹا اور ایک سابق وزیراعلیٰ کی والدہ انتخابی میدان میں قسمت آزما رہی ہیں۔
انتخابی دنگل کا ایک بڑا معرکہ سابق گورنر راجا جلال حسین مقپون اور موجودہ گورنر سید مہدی شاہ کے بیٹے توقیر مہدی شاہ کے درمیان سج رہا ہے، جہاں دونوں بااثر شخصیات کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ہے۔
دوسری جانب، سابق وزیراعلیٰ حافظ حفیظ الرحمان کا جوڑ پاکستان پیپلز پارٹی کے جمیل احمد سے پڑے گا، جسے حلقے کا سب سے بڑا جوڑ قرار دیا جا رہا ہے۔ ادھر سابق وزیراعلیٰ حاجی گلبر خان کو بھی کڑے امتحان کا سامنا ہے، جن کا مقابلہ مسلم لیگ (ن) کے ملک کفایت، پیپلز پارٹی کی صوبیہ جبین اور آزاد امیدوار ایوب قریشی سے ہوگا، جہاں چار طرفہ تگڑا مقابلہ دیکھنے کو ملے گا۔
حلقے کی سیاسی صورتحال اس وقت مزید دلچسپ ہو گئی ہے جہاں سابق وزیراعلیٰ خالد خورشید کی والدہ شاہدہ خورشید بھی انتخابی میدان میں اتری ہیں۔ ان کا مقابلہ مسلم لیگ (ن) کے فرمان علی اور پیپلز پارٹی کے میجر فہد حنیف خان سے ہے، جہاں سیاسی مبصرین ایک انتہائی کانٹے دار اور قریبی مقابلے کی پیشگوئی کر رہے ہیں۔ تمام نامور سیاسی خاندانوں کی ساکھ داؤ پر لگنے کی وجہ سے ان حلقوں پر پورے ملک کی نظریں ٹکی ہوئی ہیں۔