لاہور/اسلام آباد: معروف صنعتکار اور یونائیٹڈ بزنس گروپ (UBG) کے پیٹرن ان چیف ایس ایم تنویر نے چھوٹے دکانداروں کے لیے حکومت کی نئی فکسڈ ٹیکس اسکیم کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ملک میں ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے لیے ایک اہم اور انقلابی پیش رفت قرار دیا ہے۔
اپنے ایک بیان میں انہوں نے اس کامیاب سکیم کی تیاری پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیر مملکت بلال اظہر کیانی کی کاوشوں کو بھرپور انداز میں سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اسکیم تجارتی اور دکانداروں کی تنظیموں کی باقاعدہ مشاورت اور اعتماد کے ساتھ تیار کی گئی ہے جو کہ ایک مثبت طرزِ عمل ہے۔نئی سکیم کی تفصیلات بتاتے ہوئے ایس ایم تنویر نے واضح کیا کہ وہ دکاندار جن کا سالانہ ٹرن اوور 200 ملین (20 کروڑ) روپے یا اس سے کم ہے، وہ صرف 1 فیصد کی مقررہ شرح سے انکم ٹیکس ادا کرنے کے اہل ہوں گے۔ انہوں نے دکانداروں کے لیے ودہولڈنگ ٹیکس وضع کرنے کی سہولت شامل کرنے کا بھی خیرمقدم کیا اور بتایا کہ ریٹرن فائل کرنے کے وقت کم از کم 25,000 روپے ٹیکس جمع کرانے کی شرط لاگو ہوگی۔
آل پاکستان ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے صدر اجمل بلوچ کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو میں ایس ایم تنویر نے تجارتی قیادت کو مبارکباد دی، جن کی کوششوں سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے اردو اور علاقائی زبانوں میں دستیاب ایک سادہ، یک صفحاتی انکم ٹیکس ریٹرن فارم متعارف کرایا ہے۔ یہ ریٹرن ایک مخصوص موبائل ایپلیکیشن کے ذریعے بھی باآسانی جمع کرایا جا سکتا ہے۔
گفتگو کے دوران اجمل بلوچ نے ایف بی آر کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کی اہم تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اسکیم میں شامل ہونے والے دکانداروں کو ایف بی آر کی ایک آفیشل رجسٹریشن پلیٹ دی جائے گی، جسے وہ اپنے کاروبار کے باہر آویزاں کریں گے۔ اس پلیٹ کی موجودگی دکان کو ٹیکس حکام کے اچانک اور بلاجواز معائنے یا چھاپوں سے قانونی طور پر استثنیٰ فراہم کرے گی۔
ایس ایم تنویر نے گفتگو کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت اور کاروباری برادری کے درمیان ایسی مشترکہ کوششیں ٹیکس نیٹ کو بڑھانے اور طویل مدتی قومی اقتصادی مفادات کو محفوظ بنانے کے لیے انتہائی ناگزیر ہیں۔