مودی کی 'اسرائیل نواز اور ایران مخالف' پالیسی بھارت کے لیے وبالِ جان، امریکی جریدے کا انکشاف

05:16 PM, 6 Mar, 2026

واشنگٹن/نئی دہلی:امریکی جریدے 'ڈی سی جرنل' نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کی اسرائیل نواز اور ایران مخالف خارجہ پالیسی بھارت کے سٹریٹجک اور اقتصادی مفادات کے لیے شدید خطرات کا باعث بن رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، بھارت کی غیر متوازن خارجہ پالیسی نے اسے مشرقِ وسطیٰ میں ایک مشکل صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔
جریدے کے مطابق، مودی حکومت کی موجودہ پالیسیوں کے نتیجے میں خلیجی ممالک میں مقیم لاکھوں بھارتی کارکنوں کے روزگار اور ویزا کے عمل پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ بھارت کو اب عرب دنیا میں ایک 'اسرائیل نواز سکیورٹی کیمپ' کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس سے بھارت کی دہائیوں پرانی غیر جانبدارانہ ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ مودی کی اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے کھلی قربت نے اسلامی ممالک، بالخصوص ایران کے ساتھ بھارت کے تعلقات میں دراڑیں ڈال دی ہیں۔ خلیجی ممالک سے بھارت کو ملنے والے کثیر زرمبادلہ پر خطرات منڈلا رہے ہیں، جو بھارت کی معیشت کی شہ رگ تصور کی جاتی ہے۔ ایران کے ساتھ سفارتی دوری سے بھارت کے توانائی کے شعبے اور وسطی ایشیا تک رسائی کے منصوبے (جیسے چاہ بہار بندرگاہ) متاثر ہو سکتے ہیں۔
بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی یہ 'یک طرفہ' پالیسی اسے خطے میں تنہا کر سکتی ہے۔ اگر نئی دہلی نے اپنی خارجہ پالیسی میں توازن پیدا نہ کیا تو اسے نہ صرف اقتصادی طور پر بلکہ سٹریٹجک محاذ پر بھی بڑی قیمت چکانی پڑے گی۔

مزیدخبریں