روس اور ایران کے دفاعی اشتراک کے مشرقِ وسطیٰ پر اثرات:امریکی اخبار کا دعویٰ

07:25 PM, 6 Mar, 2026

واشنگٹن : امریکی اخبار 'واشنگٹن پوسٹ' نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں سنسنی خیز دعویٰ کیا ہے کہ روس، مشرقِ وسطیٰ میں امریکی افواج اور تنصیبات پر حملوں کے لیے ایران کو براہِ راست حساس انٹیلی جنس فراہم کر رہا ہے۔ امریکی انٹیلی جنس کے تین قریبی ذرائع نے ان اطلاعات کی تصدیق کی ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی کے ایک نئے دور کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق، روس مشرقِ وسطیٰ میں تعینات امریکی بحری جہازوں اور جنگی طیاروں کی نقل و حرکت اور درست لوکیشن کی معلومات ایران کو فراہم کر رہا ہے۔ اس تعاون کی چند اہم وجوہات اور نتائج درج ذیل ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایرانی حملوں میں امریکی ریڈارز اور "کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز" کو جس درستی سے نشانہ بنایا گیا، اس کے پیچھے روسی ڈیٹا کا ہاتھ ہے۔
 مسلسل حملوں کے باعث امریکہ کے 'انٹرسیپٹرز' (میزائل شکن نظام) کا ذخیرہ تیزی سے کم ہو رہا ہے، جو کہ امریکی دفاع کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کی اپنی انٹیلی جنس صلاحیتوں میں حالیہ کمی کے باعث اب وہ روسی سیٹلائٹ ڈیٹا پر زیادہ انحصار کر رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے ایران کو دی جانے والی یہ امداد امریکہ اور اسرائیل کے دفاعی نظام کو کمزور کرنے کی ایک منظم کوشش ہے۔ کئی مواقع پر ایرانی حملوں نے امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ دفاعی حصار کو بھی نشانہ بنایا ہے، جو کہ عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتے ہوئے ٹکراؤ کی علامت ہے۔

مزیدخبریں