عرب سپرنگ کے بعد رجیم چینج

08:19 PM, 6 Mar, 2026

تحریر: طارق وسیم

60 کی دہائی کا وسط تھا  دنیا تیزی سے ترقی کر رہی تھی،صنعتی انقلاب کے بعد  آسمان مسخر کرنے کی کوششیں جاری تھیں،روس  اور جرمنی تعلیمی میدان میں بہت  آگے جا چکے تھے،یورپ اور امریکہ بھی تیزی سے آگے بڑھ رہے تھے ۔ بر صغیر میں انگریزوں کا کچھ اثر باقی تھا لیکن یہاں بھی نئے زمانے کے رنگ بکھرے ہوئے تھے۔افریقہ بھی جدیدیت کی جانب رواں دواں تھا،جاپان نے حیرت انگیز ترقی کر لی تھی اور بظاہر لگتا تھا کہ دنیا دوسری جنگ عظیم کے اثرات سے باہر آ گئی ہے لیکن چند لوگ اس انقلاب پر کڑی نظر رکھے ہوئے تھے،انہیں کسی بھی صورت ایسی دنیا قبول نہیں تھی جس میں دلیل،عقل،شعور اور سائنس عقیدے پر غالب آ جائیں۔
سوشلزم کا پھیلاؤ ان کی جڑیں کاٹنے لگا تھا اور فیصلے کی گھڑی آن پہنچی تھی،پھر  پاکستان ،افغانستان اور مشرق وسطیٰ کے  سیکولر معاشروں کو  مذہبی معاشروں میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا جس کے لیے تمام تر لوازمات پہلے ہی موجود تھے، صرف انہیں ہوا دینی تھی جو دے دی گئی،نعرہ لگا روس گرم پانیوں تک پہنچ گیا تو سب کو تاراج کر دے گا۔یہ لادین قوت ہے نہ اسلام بچے گا نہ عیسائیت،روس کو افغانستان کی جنگ میں دھکیل دیا گیا ایران میں احمد رضا شاہ پہلوی کی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار آیت اللہ خامنہ ای کے حوالے کیا گیا۔افغانستان میں روس نواز حکومت کے سامنے گل بدین حکمت یار،احمد شاہ مسعود اور دیگر کو کھڑا کر دیا گیا۔مذہب کی نئے سرے سے آبیاری کی گئی ۔طویل جنگ کے بعد روس کو شکست ہوئی اور سوویت یونین کے حصے ہو گئے۔ 
افغان معاشرے سے معتدل قوتوں کو چن چن کر ختم کیا گیا۔پاکستان میں کھیل کے میدان ختم ہوگئے،سنیما ہالز کی جگہ شادی ہال بن گئے،فلم کو سٹیج ڈراموں کی گھٹیا جگتوں اور نیم برہنہ ڈانس نے شکست دے دی۔ معاشرہ معتدل سے  بزدل اور پھر بد دل ہو گیا،جہادیوں کو ہیرو بنا کر پیش کیا گیا اور ملک میں مذہبی سیاسی قوتوں کو حد سے زیادہ سپیس ملی لیکن آفرین ہے پاکستانی قوم پر جس نے ہر الیکشن میں مذہبی جماعتوں کو ووٹ نہ دے کر بار بار اعلان کیا کہ وہ آزاد اور معتدل پاکستان چاہتے ہیں۔بے انتہا کوششوں کے باوجود پاکستانی معاشرہ عوامی سطح پر انتہا پسند نہ بن سکا ،دوسری جانب ایران نے مشرق وسطیٰ کے تمام ممالک میں مداخلت جاری رکھی ۔ لبنان بحرین شام، عراق  اور پاکستان میں باقاعدہ اثر و رسوخ بڑھایا گیا،شام میں بشار الاسد کے ہاتھوں لاکھوں مسلمان قتل ہوئے،وہ عورتیں جو سونے کے چمچ منہ میں لے کر پیدا ہوئیں اور جن کی جھلک  کسی نے نہیں دیکھی تھی انہیں مہاجر کیمپوں میں رہنا پڑا۔ ایران میں عورتوں پر ہر قسم کی پابندیاں لگا کرملک  کو پتھر کے زمانے میں پہنچا دیا گیا۔
مہاسا امینی جیسی کوئی آواز اٹھی تو جان سے گئی،اور یہ سب جن لوگوں نے کیا اور کروایا وہ دور بیٹھے دیکھتے اور مسکراتے رہے،نفرتوں اور شدت پسندی کی ایسی فصل بوئی گئی جس نے ساری دنیا کا ماحول زہریلا کر دیا،اس دوران انتہا پسند قوتوں میں مقابلہ بھی  جاری رہا۔ طالبان،زینبیون،حماس اور حزب اللہ جیسی کئی تنظیمیں منظر عام آئیں،پھر اچانک عرب دنیا میں ایک نوجوان نے فیصلہ کیا کہ اسے جدید دور کے ساتھ چلنا ہے،ترقی کرنی ہے،صرف تیل کی کمائی پر انحصار نہیں کرنا اور عربوں کو پتھر کے زمانے سے نکالنا ہے۔محمد بن سلمان نے اس سلسلے میں عملی کوششیں شروع کر دیں،ایران سے ہر قسم کے اختلافات ختم کر کے جدید سعودی عرب کی بنیاد رکھی ،سعودی عرب نے کبھی ایٹمی قوت بننے کی کوشش نہیں کی بلکہ پاکستان کو ایٹمی قوت بننے میں مدد دی اور اس کے ساتھ مستقل دفاعی تعاون رکھا،پاکستان حرمین شریفین کی حفاظت کی زمہ داری اٹھاتا رہا اور اٹھا رہا ہے۔
دوسری جانب ایران جسے پاکستان نے ہر قسم کی پابندیوں کے باوجود ایٹمی قوت بننے کے لیے تمام تر لوازمات فراہم کیے وہ ایٹم بم نہ بنا سکا بلکہ الٹا دنیا کو بتا دیا کہ پاکستان نے اسے جوہری بم بنانے کے لیے  سینٹری فیوجز اور افزودہ یورینیم فراہم کیا تھا۔ موجودہ ایرانی رجیم نے 47 برس میں اپنی قوم کو100 برس  پیچھے دھکیل دیا۔ باقی دنیا سے الگ تھلگ رکھا اور کم ازکم پانچ نسلوں پر اپنے اثرات چھوڑے،ایسا ہی کچھ عرب ممالک نے بھی کیا۔اسامہ بن لادن اور القاعدہ جیسی دہشت گرد تنظیم  وجود میں آئیں،آج پھر وہی قوتیں متحرک ہیں جنہوں نے 1977 میں پھلتے پھولتے پاکستان،افغانستان ایران اور مشرق وسطیٰ میں نقب لگائی تھی،یہاں کے لوگوں کو فرقہ  واریت انتہا پسندی اور مسلکی سیاست میں دھکیلا تھا،یہاں جنگیں برپا کروا کر عراق اور ایران کی عسکری قوت ختم کی تھی۔مشرق وسطیٰ میں عرب سپرنگ کے نام پر صدام حسین، اور معمر قذافی کے دور کو ختم کرایا تھا ۔ایران کی موجودہ رجیم کو ختم کر کے ایک جدید ایرانی حکومت کے قیام کا دعویٰ کیا جا رہا ہے،اور یہ ہو بھی جائے گا لیکن گزشتہ 47 برس میں جو پانچ نسلیں ہم نے تیار کر دی ہیں وہ جدید دنیا سے کیسے ہم آہنگ ہوں گی؟۔

نوٹ: neonews.pkاوراس کی پالیسی کا  کالم نگار/بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے

طارق وسیم پاکستان بالخصوص لاہور کی صحافت میں جانا پہچانا نام ہے دو دہائی قبل انگریزی جرنلزم سے کیریئر کا آغاز کرنے والے طارق وسیم نے براڈ کاسٹ جرنلزم میں بطور رپورٹر،اینکر اور نیوز ڈیپارٹمنٹ میں  اپنی منفرد پہچان بنائی ہے۔

مزیدخبریں