آئی ایم ایف کا 'پٹرول بم' اور سمارٹ ورکنگ پلان: تعلیمی ادارے آن لائن کرنے اور پٹرول و ڈیزل فوری مہنگا کرنے کا سخت مطالبہ

08:29 PM, 6 Mar, 2026

اسلام آباد : پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے درمیان ہونے والے حالیہ ورچوئل مذاکرات میں معاشی بحالی کے لیے کڑی شرائط سامنے آئی ہیں۔ آئی ایم ایف نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فوری اضافہ کیا جائے اور پٹرولیم مصنوعات پر دی جانے والی ہر قسم کی سبسڈی کا فی الفور خاتمہ کیا جائے۔
مذاکرات کے دوران آئی ایم ایف نے واضح کیا کہ 30 جون تک 1468 ارب روپے کا پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی (PDL) کا ہدف ہر صورت پورا کیا جائے۔ اس ہدف کے حصول کے لیے پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر قرار دیا گیا ہے تاکہ سرکاری خزانے پر پڑنے والا بوجھ کم کیا جا سکے۔

ملکی کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ قابو میں رکھنے کے لیے توانائی بچت کی مختلف تجاویز پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے کے لیے ایک دو مرحلہ وار پلان زیرِ غور ہے۔ایندھن کی بچت کے لیے اسکولوں اور کالجوں کو آن لائن کلاسز پر منتقل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ یونیورسٹیوں اور تمام سرکاری دفاتر کو 'سمارٹ ورکنگ ماڈل' پر منتقل کیا جائے گا تاکہ سڑکوں پر ٹریفک اور پٹرول کی کھپت میں نمایاں کمی لائی جا سکے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے ان مطالبات کا مقصد درآمدی بل کو کم کر کے معیشت کو سہارا دینا ہے، تاہم ان اقدامات سے عوامی سطح پر مہنگائی کا نیا طوفان آنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

مزیدخبریں