قومی اسمبلی اجلاس : بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، تمام سیاسی جماعتیں متحد

03:01 PM, 6 May, 2025

نیوویب ڈیسک

اسلام آباد  :  قومی اسمبلی کے اجلاس میں بھارتی جارحیت، سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی، اور پہلگام واقعے جیسے فالس فلیگ آپریشن کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی پر ایوان ایک زبان ہوگیا۔ اجلاس میں تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے بھارت کو منہ توڑ جواب دینے کے عزم کا اظہار کیا اور وزیر اعظم نریندر مودی کی پالیسیوں کو خطے کے امن کے لیے خطرہ قرار دیا۔

اجلاس کی صدارت اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کی، جس میں پی ٹی آئی، پیپلزپارٹی، ایم کیو ایم، مسلم لیگ (ض)، اور دیگر جماعتوں کے رہنماؤں نے اظہار خیال کیا۔

پی ٹی آئی کے رہنما بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بھارت اور پاکستان ہمسائے ہیں، جنگ کی باتیں مسئلے کا حل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت نے پہلی بار سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے کی کوشش کی ہے، جسے پاکستان عالمی عدالت انصاف میں لے جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کو یاد رکھنا چاہیے کہ یہ غزہ طرز کی جنگ نہیں ہوگی، اگر مس ایڈونچر ہوا تو پاکستان سخت جواب دے گا۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا اور کہا کہ بھارتی حکومت اپنی ناکامیوں کا الزام پاکستان پر ڈال رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم دہشتگردی کا شکار ہے، برآمد کنندہ نہیں۔

پیپلز پارٹی کی سحر کامران نے ذوالفقار علی بھٹو کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام آج ہماری سب سے بڑی دفاعی قوت ہے، اور بھارت اسی وجہ سے محتاط ہے۔

ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار نے مودی کے بیانیے کو زمیں بوس قرار دیا اور کہا کہ بھارت میں بھی اب مودی کی مخالفت بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارت نے حملے کی کوشش کی تو اس بار صرف چائے نہیں، ڈرم بھیجیں گے۔

اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم سمیت وزرا کی 22 سیٹیں خالی ہیں، یہ حکومت کی سنجیدگی ہے، پی پی پی کی قیادت موجود ہے، اپوزیشن موجود ہے مگر مسلم لیگ ن ایوان سے غائب ہے، حکومتی رویے سے لگتا ہے کہ حکومت سرنڈر کر چکی ہے، مسلم لیگ ن بھاگنا چاہ رہی ہے۔

اعجاز الحق نے کہا کہ مودی نے گجرات میں جو کیا وہ ہولوکاسٹ سے کم نہیں تھا، اور وقت آئے گا جب پاکستان منہ توڑ جواب دے گا۔

وفاقی وزیر عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستان کی افواج اور عوام بھارت کی کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت بند گلی کی طرف جا رہا ہے اور مودی حکومت سفارتی طور پر تنہا ہو چکی ہے۔

ایوان میں اس بات پر مکمل اتفاق رائے پایا گیا کہ بھارت کی طرف سے کسی بھی جارحیت یا سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا سخت جواب دیا جائے گا اور پاکستان اپنے مؤقف کو عالمی سطح پر مؤثر انداز میں پیش کرے گا۔

مزیدخبریں