ستائیسویں آئینی ترمیم کے بعد بڑا فیصلہ؛ سپریم کورٹ نے اپنے اور وفاقی آئینی عدالت کے دائرہ اختیار پر تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا

11:46 AM, 6 May, 2026

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے ستائیسویں آئینی ترمیم کے نفاذ کے بعد اپنے اور وفاقی آئینی عدالت کے دائرہ اختیار اور آئینی حیثیت کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور تاریخی فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان، جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں قائم دو رکنی بینچ نے اس مقدمے کا تفصیلی فیصلہ تحریر کیا ہے۔
سپریم کورٹ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں واضح کیا ہے کہ وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے دیے گئے فیصلے قانونی اصولوں کے حوالے سے دیگر تمام ماتحت عدالتوں پر لازم ہوں گے۔ فیصلے میں مزید تشریح کی گئی ہے کہ آئین کا آرٹیکل 189 ایک عدالت کو دوسری عدالت کے ماتحت نہیں بناتا، بلکہ دونوں کے دائرہ کار متعین ہیں۔ عدالتِ عظمیٰ نے خبردار کیا ہے کہ آئینی اور غیر آئینی مقدمات کو ایک ساتھ چلانا مستقبل میں سنگین آئینی پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے، اس لیے دائرہ اختیار کی حد بندی ناگزیر ہے۔

مزیدخبریں