تہران: ایران نے پاکستان کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کے تبادلے کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے جاری ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ پاکستان کے ذریعے ایران اور امریکا کے درمیان پیغامات کا تبادلہ ہو رہا ہے اور مختلف تجاویز پر غور جاری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جنگ بندی سے متعلق امریکی تجاویز اور پیغامات کے متن کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے، تاہم ایران نے تاحال ان تجاویز کا باضابطہ جواب نہیں دیا۔ ان کے مطابق ایران جلد اپنا مؤقف پاکستان کے ذریعے امریکا تک پہنچا دے گا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جنگ بندی سے متعلق تجاویز اب مختصر ہو کر ایک صفحے تک محدود رہ گئی ہیں۔ دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ 28 فروری سے شروع ہونے والی جنگ، جسے امریکا نے “آپریشن ایپک فیوری” کا نام دیا تھا، اب ختم ہو چکی ہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے شروع کیے گئے “پراجیکٹ فریڈم” کو روکنے کا اعلان بھی کیا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان اور دیگر ممالک کی جانب سے مذاکرات میں پیشرفت کے مثبت اشارے ملنے کے بعد کیا گیا۔