پیس ہیون : برطانیہ کے جنوبی ساحلی علاقے پیس ہیون میں نامعلوم افراد نے ایک مسجد کو آگ لگا دی۔ واقعہ مقامی وقت کے مطابق رات تقریباً 10 بجے پیش آیا۔ آتشزدگی کے وقت مسجد کے اندر دو افراد موجود تھے جو معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔ پولیس نے اس حملے کو "نفرت پر مبنی جرم" (Hate Crime) قرار دیا ہے۔
پولیس اور فائر بریگیڈ فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور آگ پر قابو پا لیا، تاہم مسجد کے داخلی حصے کو نقصان پہنچا۔ واقعے کے وقت مسجد کے عمر رسیدہ چیئرمین اور ایک نمازی عشاء کی نماز کے بعد چائے پی رہے تھے۔
مسجد کے چیئرمین نے بتایا کہ "ہم نے ایک زور دار دھماکے کی آواز سنی، باہر نکلے تو دیکھا کہ مسجد کا دروازہ آگ کی لپیٹ میں ہے۔ ہم فوراً باہر نکلے اور مدد کے لیے پکارا۔"
مقامی افراد کے مطابق دو نقاب پوش افراد نے مسجد کے مرکزی دروازے کو توڑنے کی کوشش کی، ناکامی پر دروازے اور سیڑھیوں پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی گئی۔ اس عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ حملہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این (CNN) کے مطابق، برطانیہ میں حالیہ دنوں میں اسلام مخالف حملوں میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اس حملے نے مسلم کمیونٹی میں خوف اور غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔
مقامی رہنماؤں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایسے نفرت انگیز جرائم کے خلاف سخت اقدامات کرے اور اقلیتوں کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ ساتھ ہی بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔