برطانیہ میں مسجد کو آگ لگانے کا واقعہ : اسلاموفوبیا سےنمٹنے کیلئے عالمی سطح پربروقت اقدامات وقت کی اہم ضروت

02:38 PM, 6 Oct, 2025

اسلام آ باد : اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے واقعات مغربی معاشروں میں ایک سنگین مسئلہ بن چکے ہیں، جہاں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیزی اور دہشت گردانہ حملے عام ہوتے جا رہے ہیں۔ عالمی میڈیا کی جانب سے ان واقعات کی کوریج میں دوہرا معیار بھی واضح ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے مسلمانوں کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔

برطانیہ کے جنوبی ساحلی قصبے پیس ہیون میں حال ہی میں ایک مسجد کو آگ لگا دی گئی، جس کے باعث مسجد کے دروازے اور باہر کھڑی گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ برطانوی پولیس نے بتایا کہ دو نقاب پوش افراد نے مسجد کا دروازہ توڑنے کی کوشش بھی کی۔

اگرچہ بی بی سی نے اس واقعے کو صرف نفرت انگیز جرم قرار دیا، مگر امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے اسے پرتشدد دہشت گرد حملہ قرار دیا۔ برطانوی اور عالمی میڈیا میں اس حملے کی کوریج کافی محدود رہی، جبکہ برطانوی حکومتی عہدیداروں کی طرف سے بھی اس حملے کی واضح مذمت کے بیانات سامنے نہیں آئے۔

عالمی ادارے دی گارڈین نے بھی اس واقعے کو مسجد پر آگ لگانے کا واقعہ قرار دیا، مگر اس کی نوعیت کو دہشت گردی کے طور پر واضح طور پر بیان نہیں کیا گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کی عبادت گاہوں کو تحفظ فراہم کرنا مقامی حکومتوں کی ذمہ داری ہے، جبکہ اقوام متحدہ اور دیگر انسانی حقوق کے اداروں کو مغربی ممالک میں اسلاموفوبیا اور مسلمانوں کے خلاف تعصب کے بڑھتے ہوئے رجحان کے خلاف مؤثر حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

اسلاموفوبیا سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر فوری اور بروقت اقدامات وقت کی اہم ضرورت بن چکے ہیں تاکہ فرقہ وارانہ تشدد اور نفرت انگیزی کو روکا جا سکے اور تمام اقلیتوں کو مساوی حقوق اور تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

مزیدخبریں