بھارتی انتخابات میں 'پاکستان کارڈ' کا دوبارہ استعمال؛ بی جے پی کا شکست کے خوف سے گمراہ کن پروپیگنڈا

12:45 PM, 7 Apr, 2026

نئی دہلی: بھارت میں عام انتخابات کے قریب آتے ہی حکمران جماعت بی جے پی نے اپنی روایتی پالیسی اپناتے ہوئے پاکستان کے خلاف زہریلے پروپیگنڈے اور جھوٹے الزامات کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، مودی حکومت اپنی داخلی ناکامیوں کو چھپانے اور انتخابی فائدہ حاصل کرنے کے لیے 'پاکستان کارڈ' اور 'فالس فلیگ' جیسے پرانے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔
وزیراعظم نریندر مودی نے انتہا پسندی پر مبنی بیانیے کو فروغ دیتے ہوئے اپوزیشن جماعت کانگریس کو براہِ راست نشانہ بنایا ہے۔ مودی نے عوامی جذبات بھڑکانے کے لیے دعویٰ کیا ہے کہ کانگریس پارٹی 'پاکستان کے ایجنڈے' پر کام کر رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی کا یہ بیان سیکولر ووٹوں کو تقسیم کرنے اور ہندو انتہا پسندوں کو متحرک کرنے کی ایک سوچی سمجھی کوشش ہے۔
دوسری جانب، آسام کے وزیراعلیٰ ہمنت بسوا سرما بھی شکست کے خوف سے بوکھلاہٹ کا شکار نظر آتے ہیں۔ انہوں نے اپنی ریاست کی اندرونی سیاست میں بھی پاکستان کو گھسیٹ لیا ہے، جسے سیاسی حلقوں میں مذموم سیاسی مفادات کی تکمیل قرار دیا جا رہا ہے۔ بی جے پی مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیانات اور تعصب کو بطور انتخابی ہتھیار استعمال کر رہی ہے۔
پاکستان پر جھوٹے الزامات لگا کر بھارتی عوام کی توجہ بنیادی مسائل جیسے بے روزگاری اور مہنگائی سے ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ بی جے پی انتخابات جیتنے کے لیے فالس فلیگ آپریشنز اور پاکستان کے خلاف من گھڑت کہانیاں گھڑنے میں ماہر ہے۔

مزیدخبریں