نیویارک: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں روس اور چین نے آبنائے ہُرمز کو بحری ٹریفک کے لیے کھلوانے کے حوالے سے پیش کی گئی قرارداد کو ویٹو کر کے مسترد کر دیا ہے۔عرب میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، سلامتی کونسل کا اہم اجلاس بحرین کی جانب سے پیش کردہ اس قرارداد پر رائے شماری کے لیے طلب کیا گیا تھا جس کا مقصد عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل آبی راستے، آبنائے ہُرمز، میں جہاز رانی کی روانی کو یقینی بنانا تھا۔
رائے شماری کے دوران قرارداد کی حمایت اور مخالفت میں درج ذیل صورتحال رہی۔ 15 میں سے 11 ارکان نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔ روس اور چین نے بطور مستقل رکن اپنا حقِ استرداد (ویٹو) استعمال کیا، جس کی وجہ سے قرارداد کثرتِ رائے کے باوجود منظور نہ ہو سکی۔ 2 ممالک نے ووٹنگ کے عمل میں حصہ نہیں لیا۔
میڈیا رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر یہ قرارداد منظور ہو جاتی تو اقوام متحدہ کے رکن ممالک کو یہ قانونی اختیار حاصل ہو جاتا کہ وہ آبنائے ہُرمز کو کھلوانے اور وہاں جہاز رانی بحال رکھنے کے لیے "ضروری اقدامات" کر سکیں۔ بین الاقوامی سفارتی زبان میں ان اقدامات سے مراد عسکری یا تادیبی کارروائی بھی لی جا سکتی ہے، یہی وجہ ہے کہ روس اور چین نے اسے مداخلت قرار دیتے ہوئے بلاک کر دیا۔
سلامتی کونسل: روس اور چین نے آبنائے ہُرمز سے متعلق بحرین کی قرارداد ویٹو کر دی
09:31 PM, 7 Apr, 2026