اسلام آباد: حکومت نے ملک میں تیل کی سپلائی کو ٹرانسپورٹ سے پائپ لائن کے ذریعے منتقل کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے جس سے نہ صرف ٹرانسپورٹ کے اخراجات کم ہوں گے بلکہ صارفین کو بھی ریلیف ملے گا۔
پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق، موجودہ وقت میں ملک میں ڈیزل کی سپلائی مکمل طور پر ٹرانسپورٹ پر منحصر ہے، جبکہ پیٹرول کی سپلائی کا 60 فیصد حصہ ٹرانسپورٹ کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ نئے منصوبے کے تحت فیصل آباد سے ٹھلیاں تک پائپ لائن بچھانے کا عمل شروع کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ، غیر قانونی آئل سپلائی چین کو روکنے کے لیے ٹریکر سسٹم بھی متعارف کرایا گیا ہے۔
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے صحافیوں کو پیٹرولیم سیکٹر کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے پیٹرولیم سیکٹر میں اصلاحاتی ایجنڈے پر عملدرآمد کیا ہے جس کے نتیجے میں گیس کی قیمتوں میں استحکام آیا ہے اور گیس سیکٹر کے گردشی قرضے کا فلو صفر ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت یا صارفین جو ایندھن استعمال کر چکے ہیں ان کی ادائیگی کے لیے ہائی پاور کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ وزیر پیٹرولیم نے مزید کہا کہ وزارت نے آئل سپلائی چین اور آئل مارکیٹنگ کمپنیز کے مسائل پر کام کرنا شروع کر دیا ہے اور ایف بی آر کے ساتھ ادائیگیوں کے مسائل حل کرنے کے لیے دو سے تین میٹنگز ہو چکی ہیں۔
علی پرویز ملک نے ایل پی جی انڈسٹری کے حوالے سے نئی پالیسی بنانے کا اعلان کیا اور کہا کہ اس وقت ایل پی جی سیکٹر ڈی ریگولیٹ ہو چکا ہے اور اس کی قیمتوں کو ریگولیٹ کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، مائننگ سیکٹر کے ترقی کے لیے بھی طویل المدتی پالیسی پر عملدرآمد کیا جائے گا۔
وزیر پیٹرولیم نے قطر سے 2026 میں ایل این جی کی خریداری کے حوالے سے بھی اہم معلومات دیں۔ انہوں نے کہا کہ قطر سے 2026 میں ماہانہ دس کی بجائے سات ایل این جی کارگوز لیں گے اور اس طرح قطر سے سالانہ 120 کے بجائے 84 ایل این جی کارگوز منگوائیں گے۔
علی پرویز ملک نے بتایا کہ رواں سال گیس کی قیمتوں میں اضافہ نہ کرنے کی وجہ قطر کے ساتھ نظرثانی معاہدہ تھا، جس کے تحت سرپلس ایل این جی کارگوز عالمی مارکیٹ میں منتقل کیے گئے، جس سے قیمتوں میں اضافے کو روکا گیا۔ 18 نومبر کو قطر کے ساتھ معاہدہ ہوا جس سے 242 ارب روپے کی ایل این جی کی درآمد کو گھریلو سیکٹر میں منتقل ہونے سے روکا گیا۔