یمن میں اسرائیلی فضائی حملے، حوثی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا

10:13 AM, 7 Jul, 2025

الحدیدہ : اسرائیل نے یمن میں حوثی اکثریتی جماعت انصار اللہ کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔ اسرائیلی وزیر دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ کارروائی یمن سے اسرائیل پر ہونے والے میزائل حملوں کے جواب میں کی گئی ہے۔

حملوں میں یمن کے مغربی ساحلی علاقوں، بشمول الحدیدہ، الصلیف اور راس عیسیٰ بندرگاہوں کو نشانہ بنایا گیا، جب کہ راس قطب کے پاور پلانٹ پر بھی حملہ کیا گیا۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے اسرائیل کی طرف تین بیلسٹک میزائل داغے گئے تھے جن میں سے ایک کو کامیابی سے روکا گیا۔

اسرائیلی فوج کے مطابق حوثی جنگجو ایک ایسے بحری جہاز پر ریڈار سسٹم استعمال کر رہے تھے جسے وہ بین الاقوامی بحری راستوں پر جہازوں کی نگرانی اور مبینہ دہشت گرد کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہے تھے۔ حملے سے قبل اسرائیلی فوج کے عربی ترجمان آویچائی ادری نے ان علاقوں میں انخلا کی وارننگ بھی جاری کی تھی۔

وزیر دفاع یوآف گالانٹ نے ان حملوں کو "آپریشن بلیک فلیگ" کا حصہ قرار دیا اور خبردار کیا کہ اگر حوثیوں کی جانب سے اسرائیل پر حملے جاری رہے تو مزید جوابی کارروائیاں کی جائیں گی۔

یہ حملے ایک ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو امریکہ کے دورے پر روانہ ہو چکے ہیں، جہاں وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔

واضح رہے کہ اسرائیل کو حالیہ مہینوں میں نہ صرف حماس بلکہ لبنان کی حزب اللہ اور یمن کے حوثیوں کی جانب سے بھی حملوں کا سامنا ہے، جو فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

مزیدخبریں